.

داعش کے خلیفہ بغدادی عراقی فضائیہ کے حملے میں بچ گئے

مغربی صوبے الانبار میں ایک اجتماع پر بمباری میں داعش کے متعدد کمانڈر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مغربی صوبے الانبار میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ایک اجتماع پر عراقی طیاروں کی بمباری سے اس گروپ کے متعدد کمانڈر ہلاک ہوگئے ہیں لیکن داعش کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

عراقی فوج نے اس سے پہلے الانبار کے قصبے الکرابلہ میں داعش کے لیڈروں کے ایک اجتماع اور ابوبکر البغدادی کے قافلے پر دو الگ الگ فضائی حملوں کی اطلاع دی تھی۔برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے اسپتال ذرائع اور مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ مہلوکین میں ابوبکر بغدادی شامل نہیں ہیں۔

عراقی فوج نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ لڑاکا طیاروں نے شام کی سرحد کے نزدیک صوبہ الانبار کے ایک علاقے میں داعش کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی کے قافلے کو اپنے فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے۔بیان میں کہا گیا تھا کہ داعش کے لیڈر کے بارے میں فی الوقت کچھ معلوم نہیں کہ آیا وہ بمباری میں بچ گئے ہیں یا زخمی ہوگئے ہیں۔

بیان کے مطابق ''عراقی فضائیہ نے دہشت گرد ابو بکرالبغدادی کے قافلے پر اس وقت بمباری کی ہے جب وہ داعش کے کمانڈروں کے اجلاس میں شرکت کے لیے الکرابلہ کے علاقے کی جانب جارہے تھے''۔

واضح رہے کہ 2015ء کے اوائل میں عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے عرب روزنامے الحیاۃ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ابوبکرالبغدادی کے شمال مغربی قصبے قائم میں ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی اور ان کے زندہ بچ جانے کو ایک معجزہ قرار دیا تھا۔

گذشتہ سال نومبر میں قبائلی ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا تھا کہ داعش کے خلیفہ بغدادی قائم میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔

داعش پر حملے

درایں اثناء امریکا کی قیادت میں مشترکہ ٹاسک فورس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے ہفتے کے روز شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر چوبیس فضائی حملے کیے تھے۔

ان میں سے سترہ حملے عراق میں دس شہروں کے نزدیک داعش کے یونٹوں،ان کے زیر استعمال عمارتوں اور جنگی پوزیشنوں پر کیے گئے ہیں اور سات حملے شام میں اسی طرح کے مقامات پر کیے گئے تھے۔ایک حملہ خام تیل اکٹھا کرنے کی ایک جگہ پر کیا گیا ہے۔