.

روسی فضائیہ کی شام میں داعش کے 86 اہداف پر بمباری

روس اور مغرب شامی فریقوں کے درمیان سیاسی ڈائیلاگ کی حوصلہ افزائی کریں:پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران شام میں اٹھاسی حملے کیے ہیں اور ان میں داعش کے چھیاسی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

روس کی وزارت دفاع نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ الرقہ ،حماہ ،ادلب ،اللاذقیہ اور حلب کے علاقوں میں داعش کے اہداف پر بمباری کی گئی ہے۔

سیاسی مذاکرات کی حوصلہ افزائی

ادھر ماسکو میں روسی صدر ولادی میرپوتین نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے معاملے میں کوئی لیڈری نہیں چمکا رہا ہے۔انھوں نے شامی تنازعے پر مغرب کے ساتھ موجودہ تعاون کو ناکافی قراردیا ہے۔

انھوں نے روسی دارالحکومت میں منگل کے روز ایک سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اکٹھے کام کیونکر ممکن ہوسکتا ہے جبکہ امریکا نے شام کے معاملے میں سراغرسانی کے تبادلے سے ہی انکار کردیا ہے''۔

صدر پوتین کا کہنا تھا کہ روس ،امریکا اور یورپ کو شامی تنازعے کے طرفین کے درمیان سیاسی ڈائیلاگ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ''ترکی روس کا ایک اہم شراکت دار تھا اور روس کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ کیسے تعلقات استوار کیے جاسکتے ہیں''۔