.

یمن کے سابق صدر کے "جرائم" کی تحقیق ہونی چاہئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی جنرل پیپلز گانگریس پارٹی نے معزول صدر علی عبداللہ صالح اور ان کے حامیوں کو یمنی عوام کے خلاف جنگی جرائم کا قصوروار قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

"العربیہ" نیوز چینل کے مطابق یہ مطالبہ جنرل پیپلز کانگریس کے ریاض میں ہونے والے اجلاس میں سامنے آیا۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں حوثی باغیوں کی جانب سے زمام کار اپنے ہاتھوں میں لینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صدر عبد ربہ منصور ھادی کی آئینی حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔

یمن کی اہم سیاسی جماعت نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2216 میں بیان کردہ اصولوں کی مکمل حمایت کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ان اصولوں کی پاسداری کریں اور حکومت کی آئینی حیثیت اور سلامتی کو بحال کریں۔

علی عبداللہ صالح کی سیاسی جماعت کے حالیہ مطالبات اور بیانات خود معزول صدر کے لبنان سے نشریات پیش کرنے والے سیٹلائیٹ ٹی وی چینل "میادین" کو دیئے گئے انٹرویو کے تناظر میں سامنے آئے جس میں انہوں نے ملک میں جنگ ختم کرنے کے لئے یمن کی سب سے بڑٖی جماعت جنرل پیپلز پارٹی کی قیادت چھوڑنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ اس جنگ میں ابتک 5000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز نے علی عبداللہ صالح کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ دنوں کے اندر 21 پیپلز کانگریس کی قیادت چھوڑ دیں گے تاہم اس کے بدلے میں یمن پر اتحادیوں کے حملے روکنا ہوں گے۔ نیز یمن پر عاید پابندیاں اٹھائی جائیں۔

یاد رہے کہ یمنی فوج کا ایک حصہ اب بھی علی عبداللہ صالح کا وفادار ہے حالانکہ انہوں نے فوج کی قیادت چار برس پہلے چھوڑ کر ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغی ملیشیا کے ساتھ ملکر یمن کی آئینی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے تھے۔