.

"حوثیوں نے جنگ میں جھونکنے کے لئے بچے بھرتی کئے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی باغیوں کے ہاتھوں عام شہریوں اور بالخصوص بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا ایک نیا اسکینڈل منکشف کرتے ہوئے یمنی وزیر خارجہ ریاض یاسین نے ریاض میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ عدن میں ہم نے بڑی تعداد میں ایسے بچوں کو گرفتار کیا ہے جنہیں باغیوں نے فوجی کارروائیوں کا ایندھن بنانے کے لئے بھرتی کیا تھا۔

ریاض یاسین نے بتایا کہ سرکاری فوج نے اتحادیوں کے ساتھ ملکر عدن شہر میں اسلحہ لانے پر پابندی عاید کر رکھی ہے۔ اس وقت شہر میں صرف ضروری ایندھن اور امدادی اشیا لانے کی اجازت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں لاپتا افراد سے متعلق معلومات جمع کرنے کی غرض سے ہم سرکاری فوج کے زیر کنڑول علاقوں میں فارم تقسیم کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ حوثی اور معزول صدر کے حامیوں نے یمن کے عام شہریوں کے کی اجتماعی نسل کشی شروع کر رکھی ہے اور پورے ملک کا کوئی بھی شہر ان کی اس دست برد سے نہیں بچا۔

انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا تعز میں روزانہ کی بنیاد پر قتل عام کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔ ریاض یاسین کے بقول یہ بات کسی طور پر معقول نہیں لگتی کہ حوثیوں کو مکمل طور پر کسی حساب کتاب کے بغیر کھل کھیلنے کا موقع دیا جائے۔