.

ایرانی وفد کی داعش مخالف مشترکہ کارروائی سے قبل دمشق آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمان کا ایک وفد شام کے شمال مغربی علاقے میں باغی گروپوں کے خلاف مشترکہ کارروائی سے قبل بدھ کو دمشق پہنچا ہے۔اس وفد نے اپنی آمد پر کہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں داعش مخالف مہم ناکامی سے دوچار ہوچکی ہے۔

وفد کی قیادت ایرانی پارلیمان کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاءالدین بروجردی کررہے ہیں۔اس کی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایرانی فوجی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر شمالی صوبے حلب میں باغیوں کے خلاف ایک بھرپور حملے کی تیاری کررہے ہیں۔اس کارروائی میں لبنانی کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجو بھی حصہ لیں گے اور انھیں روس کی فضائی مدد حاصل ہوگی۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق بروجردی نے دمشق کے ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ''امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکام رہا ہے۔شام ،عراق ،ایران اور روس کے درمیان تعاون مثبت اور کامیاب جارہا ہے''۔وفد شامی صدر بشارالاسد سے بھی ملاقات کرے گا۔

ایران کی خبررساں ایجنسی تسنیم نے قبل ازیں یہ اطلاع دی تھی کہ پاسداران انقلاب ایران کے دو سینیر افسر میجر جنرل فرشاد حسین زادے اور بریگیڈئیر حمید مختاربند شام میں سوموار کو داعش کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہوگئے تھے لیکن تسنیم نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دونوں کس محاذ پر مارے گئے تھے۔

پاسداران انقلاب کے ایک اور سینیر کمانڈر حسین ہمدانی گذشتہ ہفتے حلب کے نزدیک شامی فوج کی رہ نمائی کرتے ہوئے ہلاک ہوگئے تھے۔

اسد حکومت کو روسی فضائیہ کے دو ہفتوں سے شام میں باغیوں کے خلاف جاری حملوں سے تقویت ملی ہے۔کریملن کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں داعش کے اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر بھی فضائی بمباری کی گئی ہے۔

شامی فوج اب روس اور ایران کی فوجی مدد کے بعد ملک کے مغربی اور شمال مغربی علاقوں سے مزاحمت کاروں کو نکال باہر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔واضح رہے کہ ایران کے سیکڑوں فوجی اسلحے سمیت گذشتہ ماہ شام پہنچے تھے۔وہ جنگ زدہ ملک کے شمال میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں اسدی فوج کے ساتھ مل کر زمینی کارروائیوں میں حصہ لیں گے۔

شام اور اس کے نئے اتحادیوں کے اس آپریشن کا مقصد بشارالاسد کی وفادار فوج کے ہاتھوں کھوجانے والے ملک کے شمال مغربی علاقوں کو واپس لینا اور ان کے اقتدار کو بچانا ہے۔

ذرائع کےمطابق ایران کے برّی فوجیوں اور افسروں کی اس جنگ میں شرکت کے لیے آمد ہوئی ہے۔وہ مشیر نہیں ہیں بلکہ وہ سیکڑوں کی تعداد میں ہیں،اسلحے اور فوجی سازوسامان سے لیس ہیں۔ان کے بعد مزید کی بھی آمد ہوگی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ایران کی جانب سے بشارالاسد کی امداد صرف فوجی مشیروں کی صورت ہی میں رہی ہے۔البتہ اس نے عراقیوں اور بعض افغان جنگجوؤں پر مشتمل ملیشیاؤں کو شامی حکومت کے ساتھ مل کر باغیوں سے لڑنے کے لیے بھیجا تھا۔

البتہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ شامی فوج کے شانہ بشانہ گذشتہ ساڑھے چار سال سے باغیوں کے خلاف لڑرہی ہے۔شامی جنگ میں حالیہ ہفتوں کے دوران نیا اضافہ روس کے فوجیوں اور جنگی سازوسامان کی آمد ہے۔روس کا کہنا ہے کہ اس کے لڑاکا طیارے اپنے حملوں میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں مگر ان کی بمباری میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

شام کے وسطی ،شمالی اور مشرقی حصوں پر داعش کا قبضہ ہے جبکہ القاعدہ کی شاخ النصرۃ محاذ اور طاقتور باغی گروپ احرارالشام سمیت بعض دھڑوں نے جیش الفتح کے نام سے اس سال کے اوائل میں ایک نیا فوجی اتحاد تشکیل دیا تھا اور اس نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شمال مغربی صوبوں ادلب اور حلب میں شامی فوج کو شکست سے دوچار کیا تھا اور وہاں قبضہ کرلیا تھا۔اب شامی فوج انہی علاقوں کو واپس لینے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نئی فوجی کارروائی کررہی ہے۔