.

نئی انتفاضہ روکنے کے لئے یروشلم سیل کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے یہودی آبادکاروں اور اپنے دوسرے شہریوں پر فلسطینی عربوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی اکثریتی علاقوں کو چیک پوائنٹس بنانے کر سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے مبادا یہودیوں پر فلسطینی حملوں کی لہر مکمل تحریک انتفاضہ میں تبدیل نہ ہو جائے۔

اسرائیلی پولیس حکام نے بتایا کہ چیک پوائنٹس مشرقی بیت المقدس کے پڑوس میں ان فلسطینی دیہات کے خارجی راستوں پر بنائے جا رہے جہاں سے حالیہ دنوں میں اسرائیلیوں پر حملہ آور آئے۔

درایں اثنا امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی خاطر مشرق وسطی جانے کا اعلان کیا تھا تاکہ وہ موجودہ صورتحال کا رخ تبدیل کر سکیں۔

گذشتہ برس امریکی قیادت میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کو دوبارہ پٹری پر لانے کی امریکی کوششوں کی ناکامی کے بعد جان کیری پہلی بار دونوں فریقوں کے درمیان امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔

ہاورڈ کینیڈی سکول کے بیلفر سینٹر فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل آفیئرز کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری کا کہنا تھا کہ میں وہاں [مشرق وسطی] جلد مناسب وقت پر جاوں گا اور معاملات کو ازسر نو دیکھتے ہوئے یہ دیکھنے کی کوشش کروں گا کہ ہم کیونکر سخت صورتحال سے بچ سکتے ہیں۔

حالیہ چند دنوں سے جاری کشیدگی کے دوران کم سے کم سات اسرائیلی ہلاک ہو ئے جبکہ دس مبینہ حملہ آوروں سمیت 29 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ اگر جاری کشیدگی قابو سے باہر ہو گئی تو خطے میں امن کے لئے امریکا کا دو ریاستی حل کسی کے پاس قابل عمل صورت میں باقی نہیں رہے گا۔

جزوی طور پر حالیہ کشیدگی دراصل یہودی آبادکاروں کی جانب مسلمانوں کے تیسرے مقدس مقام الاقصی مسجد میں بڑھتے ہوئی آمد ورفت بتائی جاتی ہے۔ بڑھتی ہوئے تشدد کے بعد نئی انتفاضہ کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہے جو اس بات کا مظہر ہو گی کہ بزرگ فلسطینی قیادت نئی نسل کے فلسطینی ریاست حاصل نہیں کر سکی۔