.

فلسطینی کی گولی سے بس اڈے پر اسرائیلی فوجی ڈھیر

ہر فلسطینی 'مشکوک' قرار، اسرائیلی پولیس کو جامہ تلاشی کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کے پریمیئر انفنٹری بریگیڈ المعروف 'گولانی بریگیڈ' سے تعلق رکھنے والا ایک فوجی گذشتہ روز جنوبی اسرائیل کے بئر سبع بس اڈے پر ایک فلسطینی کے مسلح حملے میں ہلاک ہوا جبکہ اسی حملے میں 09 دوسرے افراد زخمی ہوئے جن میں بڑی تعداد فوجیوں کی ہے۔
'العربیہ' کے نامہ نگار کے مطابق بئر سبع کے کم بلدہ حورہ سے تعلق رکھنے والے اکیس سالہ مھند العقبی نے بس اڈے پر حفاظت کے لئے تعینات اسرائیلی فوجیوں سے انہی کا اسلحہ چھین کر انہیں بھون ڈالا۔

اسرائیل پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے فلسطینی حملہ آور پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس کے نتیجے میں مھند العقبی شہید ہو گیا۔ حواس باختہ سیکیورٹی اہلکاروں نے بس اڈے پر موجود اریٹریا کے ایک مہاجر کو حملہ آور کا ساتھی سمجھتے ہوئے فائر کر کے قتل کر دیا۔

اسرائیل کا یو ٹرن

ادھر اسرائیل نے گذشتہ روز جنوبی شہز بئر سبع میں ہونے والی کارروائی سے متعلق اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔ پہلے بس اسٹیشن پر حملے کو فلسطینیوں کے کھاتے میں ڈالا جا رہا تھا لیکن اب مشتبہ حملہ آور کی شناخت اریٹیریا کے پناہ گزین کے طور پر ہونے کے بعد تل ابیب نے نیا یو ٹرن لے لیا ہے۔

اتوار کی رات میڈیا کو جاری کئے جانے والے اسرائیلی بیان میں بتایا گیا کہ "بئر سبع میں ہونے والی کارروائی کو فلسطینیوں کی دوہری کارروائی بتایا گیا تھا لیکن ایک مشتبہ حملہ آور اریٹریا کا پناہ گزین نکلا۔" بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ "پولیس نے اریٹری مہاجر کو حملہ آور سمجھتے ہوئے اس پر فائر کیا جس سے وہ زخمی ہو گیا۔"

ریڈ ڈیوڈ سٹار کے ڈپٹی کمانڈر کے حوالے فلسطینی خبر رساں ایجنسی 'معا' نے بتایا کہ "ہمارے جائے وقوعہ پر پہنچتے وقت تیس میٹر کے احاطے میں خون سے لت پت زخمی کراہ رہے تھے۔" حملے کے فوری بعد وہاں موجود دوسرے فوجیوں کے جب حواس بحال ہوئے تو انہوں نے اریٹریا کے مہاجر کو قتل کر دیا اور اس کی لاش کو بیڑیاں پہنا دیں جبکہ اصل حملہ آور ان کے درمیان موجود رہا اور فائرنگ کرتا رہا۔

اسٹیشن میں موجود دسیوں فوجیوں سے فارغ ہو کر وہ باہر نکلا تو اس کا تصادم وہاں موجود فوجیوں سے ہوا۔ فرار ہوتے ہوئے وہ اسرائیلی فوجیوں کو اس وقت تک گولیوں سے بھونتا رہا جب تک اس کا اسلحہ ختم نہیں ہوا۔ اس کے پاس چاقو، فوجی سے چھینی پسٹل اور ایک ایم 16 رائفل تھی۔"

ایمرجنسی سروس کے مطابق بئر السبع آپریشن میں دو افراد جاں بحق، 34 زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 11 کو گولیاں لگیں اور 23 خوف اور صدمے سے دوچار ہوئے۔

بغیر شبہے کے تلاشی

دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے داخلی سلامتی سے متعلق وزیر غلعاد اردان کی پیش کردہ تجویز کو اتفاق رائے سے منظور کیا ہے کہ جس میں اسرائیلی پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو بغیر کسی شبہے کے جسمانی تلاشی کا اختیار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال میں اردان کے تجویز کردہ قانون میں اسرائیلی پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو کسی بھی شخص کی جسمانی، سامان اور لباس کی تلاشی کا حق حاصل ہو گا خواہ اس نے کوئی اسلحہ اٹھا رکھا یا نہیں۔