.

'اسرائیل سے ماضی کی طرز پر مذاکرات نہیں ہوں گے'

سلامتی کونسل فلسطینی ریاست کےقیام کا ٹائم فریم جاری کرے: عریقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اعلیٰ مذاکرات کار #صائب_عریقات نے #سلامتی_کونسل پر #فلسطین۔ #اسرائیل تنازع کے حل کے لیے ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ماضی کی طرز پر بات چیت کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق فرانسیسی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے صائب عریقات کا کہنا تھا کہ "ماضی کے انداز میں اسرائیل کے ساتھ دوبارہ بات چیت اب بے سود ہے۔ میرے خیال میں اب مذاکرات کی طرف واپسی ویسے ہی ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ خاص طور پر ماضی کے انداز میں تو بالکل ممکن ہی نہیں"۔

صائب عریقات کا کہنا تھا کہ اب ہم اسرائیل کے ساتھ بات چیت اپنی شرائط پرکریں گے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زوردیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کوئی ٹائم فریم دینے کے ساتھ ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرتے ہوئے اسرائیل کو اس کا پابند بنائے۔ ہم ایک ایسی خود مختار فلسطینی ریاست کا مطالبہ کررہے ہیں جو سنہ 1967ء کی جنگ کے بعد قبضے میں لیے گئے علاقوں پر مشتمل ہوگی، جس میں مشرقی بیت المقدس کو اس کے دارالحکومت کا درجہ حاصل ہوگا۔ نیز فلسطین سے نکالے گئے لاکھوں پناہ گزینوں کا مسئلہ بھی حل کرنا ہوگا۔ اسرائیل کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس سے انخلاء کا ٹائم فریم دینا ہوگا۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کو امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے بات چیت کی تھی۔ جان کیری نے دونوں رہ نمائوں سے فلسطینی اراضی میں جاری کشیدگی روکنے اورامن مساعی کی بحالی پر زور دیا تھا۔