.

غربِ اردن: اسرائیلی فورسز نے فلسطینی کا مکان مسمار کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ایک فلسطینی کا مکان مسمار کردیا ہے۔اس فلسطینی پر گذشتہ سال ایک چاقو حملے میں ایک یہودی کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

اسرائیلی فوج کی منگل کی صبح الخلیل میں ماہرالہشلمون کے مکان کو تباہ کرنے کے لیے اس جارحانہ کارروائی کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ فلسطینیوں نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب پتھراؤ کرکے انھیں جارحیت سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

ماہر الہشلمون اسلامی جہاد کے کارکن ہیں۔ان پر الزام تھا کہ انھوں 10 نومبر 2014ء کو مقبوضہ بیت المقدس کے نواح میں واقع ایک یہودی بستی گش ایتزون میں ایک یہودی کو چاقو کے وار کرکے ہلاک کر دیا تھا اور دو اور لوگوں کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے انھیں اس سال مارچ میں اس مقدمے میں قصور وار قرار دے کر دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

اسرائیلی حکومت نے گذشتہ ہفتے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تشدد کی حالیہ لہر اور خاص طور پر یہودیوں پر چاقو حملوں پر قابو پانے کے لیے حملہ آور فلسطینیوں کے سزا کے طور پر مکان مسمار کرنے کی منظوری دی تھی۔اس ظالمانہ قانون پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے تحت ایک فرد کے فعل پر پورے خاندان کو سزا دی جارہی ہے۔

اسرائیل نے چاقو حملوں کی روک تھام کے لیے مقبوضہ بیت المقدس میں عرب آبادی والے علاقوں کے باہر کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔اس طرح فلسطینیوں کی آمد ورفت کو محدود و مسدود کردیا ہے اور ان علاقوں سے باہر جانے والوں کی جامہ تلاشی لی جارہی ہے،ان کی قمیصیں اتروا کر دیکھا جارہا ہے کہ کہیں ان کے پاس چاقو یا دوسرے تیز دھار آلات تو نہیں ہیں۔

اسرائیل نے یہ اقدامات فلسطینیوں اور قابض سکیورٹی فورسز کے درمیان تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد کیے ہیں جبکہ انتہا پسند یہودی گروپ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے فلسطینیوں کے مبینہ چاقو حملوں پر قابو پانے کے لیے مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے گذشتہ بدھ کو چاقو حملے کرنے والے فلسطینیوں کو مقبوضہ بیت المقدس کے سکونتی حق سے محروم کرنے کی بھی منظور دی تھی اور عرب آبادی والے علاقوں کی ناکا بندی کا اختیار دیا تھا۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یکم اکتوبر سے جاری تشدد کے واقعات میں نو اسرائیلی ہلاک اور چالیس فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔فلسطینی مقبوضہ بیت المقدس میں یہود کے نئے سال کے آغاز سے ان کی مسجد الاقصیٰ میں بلا روک ٹوک دراندازی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ مایوسی کے عالم میں یہودیوں پر چاقوؤں سے حملے کررہے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو براہ راست گولیوں یا فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہی ہے۔