.

تین روسی فوجی شام میں بشار الاسد پر قربان ہو گئے؟

کریملن شام میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کرنے سے انکاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق میں واقع روسی سفارت خانے نے صوبے اللاذقیہ میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں تین روسیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی ہے۔یہ تینوں روسی شام کی سرکاری فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

روس کی ریا نیوز ایجنسی نے منگل کے روز سفارت خانے کے حوالے سے کہا ہے کہ ''اس کو تین روسیوں یا تین روسی فوجیوں کی شام میں اموات سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے''۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے شام کے ایک سینیر فوجی عہدے دار کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ یہ تینوں روسی اللاذقیہ میں سوموار کی شب اپنے ٹھکانے پر ایک گولہ گرنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔اگر اس خبر کی تصدیق ہوجاتی ہے تو شام میں روس کی 30 ستمبر کو فوجی مداخلت کے بعد ہلاکتوں کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے جنگ زدہ ملک میں موجود اپنے ذرائع کے حوالے سے ان روسیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔البتہ انھوں نے تعداد نہیں بتائی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ مرنے والے روس کے باقاعدہ فوجی نہیں تھے بلکہ رضاکار تھے جو شامی فوج کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑرہے تھے۔

روس کے حکومت نواز ذرائع کے مطابق اللاذقیہ کے علاقے نبی یونس میں ایک چوکی پر حملے کے وقت کم سے کم بیس روسی موجود تھے۔روسی حکومت ماضی میں متعدد مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ شام میں برسرزمین اس کے کوئی فوجی موجود نہیں ہیں۔البتہ ٹرینر اور مشیر ہیں جو شامی فوج کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔تاہم شام کے مغربی شہر طرطوس دوسرے علاقوں میں روس کے فوجی اڈوں کی حفاظت پر فورسز کے اہلکار مامور ہیں۔

سرکردہ باغی کمانڈر کی ہلاکت

درایں اثناء اللاذقیہ ہی میں روس کے فضائی حملوں میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑائی میں شریک ایک باغی گروپ کا کمانڈر مارا گیا ہے۔شامی آبزرویٹری کے مطابق سوموار کی شب جبل عکراد کے علاقے میں فضائی حملوں میں پنیتالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں عام شہری اور باغی جنگجو دونوں شامل ہیں۔

روسی لڑاکا طیاروں کی بمباری میں جیش الحر میں شامل ایک باغی گروپ فرسٹ کوسٹل ڈویژن کے سربراہ باصل زامو مارے گئے ہیں۔وہ قبل ازیں شامی فوج میں کپتان تھے اور منحرف ہوکر جیش الحر میں شامل ہوگئے تھے۔فرسٹ کوسٹل ڈویژن نے ہی عکراد کے علاقے پر قبضہ کررکھا ہے اور اس کو بھی حال ہی میں شامی فوج کے خلاف لڑائی کے لیے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے ٹینک شکن میزائلوں سمیت ہتھیار مہیا کیے گئے ہیں۔