.

'عراقی شیعہ ملیشیا کو بشار الاسد کے دفاع کے لیے بھجوانے کا حکم'

عراقی موصل کا راستہ شام کے حلب سے ہوکر گذرتا ہے: سلیمانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی #پاسداران_انقلاب کی بیرون ملک سرگرم تنظیم "القدس فورس" کے سربراہ جنرل #قاسم_سلیمانی نے #عراق کی شیعہ ملیشیا سے اپنے جنگجو شام کے شہر #حلب میں جاری لڑائی میں صدر #بشار_الاسد کی مدد کے لیے بھجوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی شیعہ ملیشیا کے قائدین کے بیانات سامنے آئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے ان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے زیادہ سے زیادہ جنگجو شام کے حلب شہر میں حکومت مخالف گروپوں سے لڑائی کے لیے بھجوائیں تاکہ حلب کا کنٹرول دوبارہ بشار الاسد کی وفادار فوج کے حوالے کرنے میں ان کی مدد کی جاسکے۔

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے عراق میں شیعہ ملیشیا "#حشد_الشعبی" میں شامل تحریک حزب اللہ النجباء گروپ کے سربراہ بشار سعید کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے ان سے اپنے جنگجو شام بھجوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شیعہ جنگجو کمناڈر سعید نے یہ تو نہیں بتایا کہ وہ کتنے جنگجو شام بھیج رہے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ موصل کی آزادی کا راستہ شام کے حلب سے ہو کر گذرتا ہے۔ گویا وہ عراقی شیعہ گروپوں کو یہ پیغام دے رہے کہ وہ پہلے شام کے حلب شہر کوآزاد کرائیں تاکہ اس کے بعد عراق کے موصل شہر کو آزاد کرانے میں ان کی مدد کی جاسکے۔

عراقی شیعہ ملیشیا پچھلے کئی سال سے شام میں صدر بشارالاسد کی مدد کررہی ہیں مگر انہیں اپنے ملک میں "داعش" کے حملوں کا بھی سامنا ہے۔ پچھلے ایک سال سے داعش نے شمالی عراق بالخصوص #موصل جیسے ایک بڑے شہر پر قبضہ کررکھا ہے۔ عراقی فوج شیعہ ملیشیا کے سہارے موصل کو داعش سے چھڑانے کے لیے پرتول رہی ہے مگر ابھی تک کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

عراقی شیعہ ملیشیا کے سربراہ بشار سعید کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک شام اور عراق کی جنگ میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں جنگوں میں حصہ لینا ان کا فرض ہے کیونکہ دونوں ملکوں میں "داعش" ہی سے مقابلہ ہے۔