.

دھمکیاں ہمارے مؤقف پر اثرانداز نہیں ہوں گی: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے لبنان میں متعیّن سفیر علی عواض العسیری نے کہا ہے کہ انھیں قتل کی دھمکیوں کے باوجود ان کے ملک کے موّقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

انھوں نے یہ بیان ان خبروں کی اشاعت کے بعد جاری کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ بیروت میں متعیّن سعودی اور قطری سفیروں کے قتل کی سازش تیار کی جارہی ہے۔

العسیری نے لندن سے شائع ہونے والے عرب روزنامے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''وہ لبنان میں سکیورٹی حکام سے رابطے میں ہیں اور ان سے ایک عرب روزنامے میں مغربی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہے۔اس میں ان کے قتل کی سازش کا ذکر کیا گیا ہے''۔

سعودی سفیر نے کہا کہ لبنانی حکام ان کی ذاتی اور بیروت میں قائم سعودی سفارت خانے کی سکیورٹی کے ذمے دار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ان کے قتل کی سازش سے متعلق اس طرح کی رپورٹ منظرعام پر آئی ہے۔

علی عواد العسیری نے کہا کہ ''اس طرح کی دھمکیاں اور چیلنجز لبنان سے متعلق سعودی عرب کے مؤقف پر اثر انداز نہیں ہوں گے اور اس سے ہم لبنان کی سیاسی حاکمیت کی حمایت سے دستبردار بھی نہیں ہوں گے''۔

درایں اثناء لبنان کے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدے دار نے قتل کی اس طرح کی کسی سازش کے بارے میں اطلاع سے متعلق لاعلمی ظاہر کی ہے۔البتہ انھوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی کے خطرے کا حجم تبدیل نہیں ہوا ہے۔

اس ذریعے کا کہنا تھا کہ ''لبنانی حکام سفارت خانوں کے تحفظ اور ملک میں عربوں دوستوں کی موجودگی کے تحفظ کی خاطر اپنے فرائض کی بجاآوری کے لیے پُرعزم ہیں اور وہ اس ضمن میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے''۔

لبنان کے ایک سیاست دان ویام وہاب نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ شام سے متعلق قطر کے مؤقف میں تبدیلی کے ردعمل میں اس کے اہداف کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔قطری وزیرخارجہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں فوجی مداخلت کرسکتا ہے۔

ویام وہاب شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی حامی توحید پارٹی کے سربراہ ہیں۔انھوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر مزید لکھا ہے کہ ''اگر قطر اپنی فوجی دھمکیوں پر عمل درآمد کرتا ہے تو پھر دوحہ پر گولہ باری ہونے جارہی ہے''۔