.

شمالی عراق میں امریکا کی چھاتا بردار کارروائی

یرغمالیوں کے لئے رہائی آپریشن میں امریکی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے پاس یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کی کوشش کے دوران امریکا کی سپیشل آپریشن کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔ عسکریت پسند گروپ کے ساتھ زمینی لڑائی میں مارا جانے والا یہ پہلا امریکی ہے۔ اس آپریشن میں شمالی عراق سے 70 یرغمالیوں کو رہا کرایا گیا۔

اربیل سے "العربیہ" کے نامہ نگار کے کرد ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فوج نے کرکوک کے جنوب مغربی علاقے الحویجہ میں یرغمال 70 قیدیوں کو رہا کرا لیا۔ یہ کارروائی علاقے میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امریکی چھاتہ بردار اتار کی گئی۔ اس آپریشن میں امریکی سپیشل فورس کو بین الاقوامی اتحاد میں شامل فضائیہ کا تعاون بھی حاصل تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ رہائی پانے والے نصف یرغمالیوں کا تعلق 'البیشمرکہ' سے ہے، باقی یرغمالی عام شہری ہیں جن میں داعش کے ہاتھوں اغوا ہونے والا ایک جج بھی شامل ہے۔ دوسری جانب دیگر باخبر کرد ذرائع نے بتایا کہ یرغمالیوں میں امریکی شہریت کے حامل افراد بھی تھے۔

کرد ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ رہائی کے بعد یرغمالیوں کو کہاں لیجایا گیا۔

رہائی پانے والوں میں کرد شامل نہیں

ادھر دوسری جانب عراق کے نیم خود مختار صوبے کردستان کی حکومتی سیکیورٹی کونسل نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں کردوں کی موجودگی کا پتا نہیں چلا۔ انہوں نے مزید کہا کہ داعش کے 20 جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ جمعرات کو علی الصباح ہونے کرد انسداد دہشت گردی فورس کے آپریشن میں چھے جنگجووں کو گرفتار کیا گیا۔