.

"سعودی معیشت بدستور بہتری کی جانب گامزن ہے"

تیل کی قیمتوں میں کمی سے فرق نہیں پڑے گا: فارن پالیسی میگزین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے مگر اس باب میں سعودی عرب کو استثنیٰ حاصل ہے کیونکہ ریاض کی معیشت پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوا ہے۔

سعودی عرب میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر جاری کی جانے والی رپورٹس میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کی گراوٹ سے ریاض کی معیشت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔ حال ہی میں معروف جریدے "فارن پالیسی" نے بھی اپنی ایک مفصل رپورٹ میں بتایا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے تمام ملکوں کی معیشت متاثر ہوئی ہے مگر سعودی عرب کی معیشت بدستور بہتری کی جانب گامزن ہے۔ تیل کے نرخوں میں کمی کا اس کی معیشت پر کوئی بُرا اثر نہیں پڑا ہے۔

خیال رہے کہ ایک سال قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 40 اور 50 ڈالر فی بیرل کے درمیان آ گئی تھی جس کے نتیجے میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معیشت پر اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔ سعودی عرب بھی تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے جو یومیہ 9.5 ملین بیرل تیل فروخت کرتا ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں تیل فروخت کرنے والے ملکوں میں شامل ہونے کے باوجود تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں کے گرنے سے سعودی عرب کی معیشت پر منفی اثر نہیں پڑا ہے۔

'فارن پالیسی میگزین' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمومی تاثر یہ تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں سعودی عرب کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہو گی مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سعودی عرب کی معیشت بدستور بہتری کی جانب گامزن ہے۔ ماضی کے برعکس اس بار عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں نے سعودی عرب کی معیشت کو متاثر نہیں کیا۔

ماضی میں سنہ 1980ء اور 1990ء کے عشروں میں تیل کی قیمتوں میں کمی نے سعودی عرب کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ خاص طور پر سنہ 1998ء میں جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت فی بیرل 10 ڈالر پر آ گئی تھی تو اس کے نتیجے میں سعودی عرب کی معیشت غیر معمولی خسارے کا سامنا کر رہی تھی۔

"فارن پالیسی میگزین" کی رپورٹ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے سے بھی گذری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2000ء کے بعد سعودی عرب کی حکومت کےسرکاری اخراجات میں اضافے کے باوجود افراط زر اور قدرتی وسائل کی پیداوار میں توازن قائم رہا ہے۔

سنہ 2014ء میں سعودی عرب کی حکومت نے 100 فی صد مقامی پیداوار سے فائدہ اٹھایا۔ سعودی عرب کی مقامی پیداوار اور افراط زر میں کسی قسم کا عدم توازن نہیں دیکھا گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی معیشت تمام بحرانوں کے باوجود بہتری کی جانب گامزن ہے۔

بحران کے دیگر پہلو

فارن پالیسی میگزین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ صدی کے آخری عشروں میں سعودی عرب کو جن معاشی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا ان کے نتیجے میں مقامی معیشت اور حکومتی عرصے میں مقامی پیداوار اور قرضوں میں 119 فی صد کا فرق تھا جب کہ موجودہ بحران کے بعد حکومتی قرضوں کی کل مقدار صرف 1.6 فی صد ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سعودی عرب کے پاس 650 ارب ڈالر کی رقم بنکوں میں محفوظ ہے۔ نیز سعودی عرب کی کرنسی کی قیمت بھی مستحکم ہے۔ یہ تمام اعشاریہ سعودی معیشت کی بہتری کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں عالمی بنک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2015ء کے دوران سعودی عرب کو 20 فی صد بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو کہ سنہ 1980ء اور 1990ء کے عشروں میں بجٹ خساروں سے کہیں کم ہے۔ سنہ 1983ء سے 1991ء کے درمیان سعودی عرب کا بجٹ خسارہ 52 فی صد تک جا پہنچا تھا۔ اس دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب بجٹ خسارے کی حد 77 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ سنہ 90ء کے عشرے میں یہ سعودی عرب کی معیشت کا بدترین بحران تھا مگر اب اس طرح کے کسی بحران کا سامنا نہیں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ سعودی عرب میں مقامی پیداوار میں کمی اور سست روی کے باوجود مالیاتی سیکٹرکی صورت حال خراب نہیں ہے۔ سنہ 2014ء کے آخر تک سعودی عرب کی حکومت نے کل پیداوار کے تناسب سے صرف 1.1 فی صد قرض لیا تھا۔ البتہ تیل کی قیمتوں کے گرنے سے سعودی عرب کی معیشت کو لگنے والا معمولی دھچکا سنہ 2016ء میں اس وقت ختم ہونے کی امید کی جا سکتی ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی جائیں گی۔