.

شامی کردوں نے تل ابیض کو اپنے صوبے میں ضم کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال میں کردوں نے مخلوط آبادی والے ایک قصبے کو اپنے صوبے میں شامل کر لیا ہے۔کرد جنگجوؤں نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع اس قصبے تل ابیض پر قبضہ کیا تھا۔

کردوں نے اس قصبے کو شام کے شمال اور شمال مشرق میں واقع اپنے خود مختار انتظامی یونٹ میں شامل کیا ہے۔اس علاقے میں کرد جنگجو صدر بشارالاسد کی حکومت کے مقابلے میں عرب فورسز کے زیادہ قریب ہیں اور ان کے ساتھ مل کر داعش اور شامی فوج کے خلاف جنگ آزما ہیں۔

کرد ڈیمو کریٹک یونین پارٹی (پی وائی ڈی) کے مطابق تل ابیض کی مقامی کونسل نے بدھ کو اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ان کے قصبے پر بھی خود مختار انتظامیہ کی حکمرانی ہو گی۔یہ علاقہ اب ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شہر عین العرب (کوبانی) کی خود مختار انتظامیہ کا حصہ ہوگا۔

جون میں کرد جنگجوؤں اور ان کے اتحادی عرب باغیوں نے داعش کو تل ابیض سے خونریز لڑائی کے بعد نکال باہر کیا تھا۔یہ قصبہ داعش کے مضبوط مرکز شمالی صوبے الرقہ میں واقع تھا۔اس کے بعد سے کردوں اور عربوں پر مشتمل ایک مقامی کونسل اس قصبے کے روزمرہ امور کی دیکھ بھال کی ذمے دار تھی۔

پی وائی ڈی کے بیان کے مطابق ایک مقامی عہدے دار فرہاد دیرک کا کہنا ہے کہ تل ابیض تمام شامی عوام کے پُرامن بقائے باہمی سے رہنے کے لیے ایک قابل تقلید مثال بنے گا۔

شام کے شمالی اور شمال مشرقی کرد اکثریتی علاقوں میں سنہ 2012ء میں سرکاری فوج کے انخلاء کے بعد سے کردوں کی قیادت میں ایک خود مختار انتظامیہ نے تمام نظم ونسق سنبھال رکھا ہے۔

ان علاقوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔شام کے شمال مشرق میں جزیرہ ہے،شمال میں کوبانی اور شمال مغرب میں عفرین کا علاقہ ہے۔کرد امور کے ماہر تجزیہ کار متلو چویراوغلو کا کہناہے کہ تل ابیض میں کردوں ،عربوں اور دوسرے گروپوں نے ایک جمہوری خود مختاری سے اتفاق کیا ہے۔تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ الگ تھلگ رہیں گے بلکہ وہ کوبانی کینٹ کا حصہ ہوں گے۔

اسی ماہ کے اوائل میں کردوں اور ان کے اتحادی باغی گروپوں نے اپنا اتحاد تشکیل دیا تھا اور شامی جمہوری فورسز کے نام سے ایک مشترکہ فوجی قوت تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔اس میں کرد ،عرب اور شامی عیسائی شامل ہیں۔