.

ریاض نے انتہا پسندوں کو فنڈنگ روکنے کی جنگ کیسے لڑی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے بینکنگ سیکٹر نے لین دین کو شفاف بنانے، منی لانڈرنگ سے پاک اور دہشت گردی کی فنڈنگ بند کرانے کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہی غیر معمولی اقدامات کے نتیجے میں سعودی عرب دہشت گرد گروپوں اور انتہا پسندوں کو فنڈنگ روکنے میں کامیاب ہوا ہے۔

ان خیالات کا اظہار سعودی عرب میں آگاہی و اطلاعات سے متعلق بینکنگ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری طلعت زکی حافظ نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں بنک کے ادارے نے اپنے صارفین اور کھاتہ داروں کے لیے نئے قواعد وضوابط وضع کیے اور بتایا کہ انہیں اکائونٹ کس طرح 'آپریٹ' کرنا ہیں۔ نئے وضع کردہ قواعد وضوابط میں جہاں رقوم کے لین دین کو شفاف بنایا گیا، منی لانڈرنگ کی تمام راستے بند کیے گئے وہیں دہشت گردوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ رقوم کی منتقلی کا بھی سدباب کیا گیا۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال [2014ء] کے دوران انہیں مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ" ٹیوٹر" کے ذریعے دہشت گردوں کو فنڈنگ کی 126 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے سے 37 شکایات کا فوری تحقیق کے بعد ازالہ کیا گیا۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سنہ 2014ء کے دوران انتہا پسندوں کو فنڈنگ سے متعلق 61 فیصد شکایات مختلف اداروں کی جانب سے کی گئیں جب کہ 31 فیصد شکایات سعودی عرب میں مقیم شہریوں کی طرف سے کی گئی تھیں۔ گذشتہ سال مخلتف افراد اور اداروں کی جانب سے منی لانڈرنگ کی 88 فیصد شکایات سامنے آئیں جن کا ازالہ کیا گیا۔

آگاہی واطلاعات کمیٹی کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے بینکنگ سیکٹر کی جانب سے "ساما" کے نام سے ایک نیا ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا۔ اس نئے ضابطہ اخلاق میں دہشت گردوں کی مالی مدد اور انہیں رقوم کی منتقلی روکنے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بنکوں کے ذریعے رقوم کی انتہا پسند تنظیموں کو فراہمی ایک مشکل مرحلہ تھا مگر رقوم کی منتقلی کی شرائط اس قدر سخت کر دی گئیں جس کےنتیجے میں نہ صرف منی لانڈرنگ رک گئی بلکہ انتہا پسندوں کو بھی سعودی بنکوں کے راستے سے ملنے والی فنڈنگ بند ہو گئی۔

زکی حافظ نے بتایا کہ سعودی عرب کے بینکنگ سیکٹر نے دہشت گردی کی کی فنڈنگ روکنے اور منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے طریقہ کار کو 'فالو' کیا۔ جس کے نتیجے میں ہمیں دہشت گردوں کو رقوم کی فراہمی روکنے میں مدد ملی۔ نئے ضابطہ اخلاق کے تحت رقوم بھیجنے اور وصول کرنے والوں کے شناختی کارڈز نمبر اور ان کی تمام دیگر تفصیلات کو لازمی قرار دیا گیا، جو کہ ماضی میں بعض صورتوں میں لازمی نہیں تھا اور انتہا پسند ان سے فائدہ اٹھاتے تھے۔

دہشت گردوں کو جدید ٹکنالوجی کا فائدہ

پری پیڈ سروسز کی سرگرمیوں کی نگرانی سے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں طلعت زکی حافظ نے کہا کہ اگرچہ بینکوں کی جانب سے جاری کردہ ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ، آٹو میٹک انشورنس کارڈز اور پری پیڈ اے ٹی ایم کارڈز کے اجراء کے سخت حفاظتی انتظامات بھی کیے جاتے ہیں تاکہ کوئی شخص پری پیڈ کارڈز کی مدد سے رقوم کی غیر قانونی راستوں کو منتقلی سے باز رہے مگر جدید ٹکنالوجی پر مہارت رکھنے والے دہشت گردوں نے پری پیڈ کارڈز کے استعمال کے متبادل راستے بھی نکال رکھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بینکنگ سیکٹر نے پری کارڈز کے ذریعے بنکوں سے رقوم کے حصول یا ادائیگیوں اور کھاتوں کی مانیٹرنگ کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی پر عبور رکھنے والے ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیں تاکہ پری پیڈ کارڈز کے ذریعے ہونے والی ممنوعہ سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہر بینک کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیرون ملک سے آنے یا بیرون ملک عطیات کی شکل میں بھجوائی جانے والی رقم کا مکمل حساب رکھے۔ ان تمام کھاتوں کی مانیٹرنگ کرے جنہیں بیرون ملک سے فنڈز حاصل ہو رہے ہیں یا جن کے توسط سے بیرون ملک رقوم بھیجی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رقوم کے حجم کا بھی اندازہ لگانا چاہیے۔ ایک ہی وقت میں کتنی رقم بھیجی، یا وصول کی جا سکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں زکی حافظ کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے مالی لین دین میں بڑے پیمانے پر فراڈ اور دھوکا دہی کی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں بعض لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے رقوم کی منتقلی کے لیے بہ طور ایجنٹ کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے انقلاب نے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو بھی فائدہ پہنچانے میں مدد کی ہے۔ انہوں نے منی لانڈرنگ اور رقوم کے حصول کے ایسے راستے بھی تلاش کیے جن کی مدد سے وہ چوی چھپے رقوم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بنک سیکٹر نے انتہا پسندوں کو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے ماہرین پر مشتمل کمٹییاں تشیکیل دے کر اس کا تدارک کیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ حال ہی میں بنک سیکٹر کے تعاون سے 505 مشکوک کھاتوں کی چھان بین کی گئی تو پتا چلا کہ وہ بینک اکائونٹس منی لانڈرنگ اور انتہا پسندوں کو فنڈنگ میں ملوث ہیں۔

مانیٹرنگ کمیٹیوں نے مجموعی طور پر 2283 مشکوک نوعیت کے کھاتوں کی چھان بین کی۔ ان میں سے 975 کھاتوں کے ذریعے دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کیے جانے کے شواہد ملے۔ آٹھ کھاتوں سے منی لانڈرنگ کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سے سعودی حکام کو 245 منی لانڈرنگ اور 143 انتہا پسندوں کو رقوم کی منتقلی کی شکایات موصول ہوئیں۔ ان تمام شکایات کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ مشکوک قرار دیے گئے کھاتوں کو بند کیا گیا۔