.

شام :اسپتالوں پر روسی لڑاکا طیاروں کے نو فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے لڑاکا طیاروں نے شام میں مختلف اسپتالوں یا جنگی محاذوں پر قائم کیے گئے عارضی شفا خانوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں دسیوں عام شہری اور طبی عملے کے ارکان ہلاک ہوگئے ہیں۔

شام میں مختلف طبی مراکز کو چلانے والی شامی،امریکی میڈیکل سوسائٹی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ روسی طیاروں نے اس ہفتے کے دوران ایک اسپتال پربمباری کی ہے۔قبل ازیں روسی طیاروں نے اسپتالوں پر آٹھ فضائی حملے کیے تھے۔سوسائٹی کے مطابق شام میں تنازعے کے آغاز کے بعد سے اسپتالوں اور طبی مراکز پر 313 فضائی حملے کیے جاچکے ہیں۔

شامی امریکی سوسائٹی جنگ زدہ ملک میں مختلف طبی مراکز کو چلا رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ روسی طیاروں نے 2 اکتوبر کو ساحلی صوبے اللاذقیہ اور وسطی صوبے حماہ میں اس کے زیر اہتمام طبی مراکز پر بمباری کی تھی۔منگل کے روز شمال مغربی صوبے ادلب میں ایک اسپتال پر روسی طیاروں کی بمباری سے طبی عملے کے دو ارکان اور دس شہری ہلاک ہوگئے تھے اور اٹھائیس شہری زخمی ہوئے تھے۔

دوسری جانب روس نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے ادلب کے قصبے سرمین میں ایک اسپتال پر بمباری کی ہے۔اس نے ان رپورٹس کو جعلی قرار دیا ہے۔

سوسائٹی کے صدر احمد ترکئی نے اسپتالوں اور کلینکوں پر بمباری رکوانے کے لیے عالمی اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ عالمی برادری شام میں شہریوں اور طبی مراکز پر حملوں کو رکوانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

روس نے 30 ستمبر کو شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا تھا لیکن روس کو فضائی بمباری میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر کڑی تنقید کا سامنا ہے اور ترکی اور دوسرے ممالک کا کہنا ہے کہ روسی طیارے داعش یا القاعدہ سے وابستہ گروپ کو اپنے حملوں میں نشانہ بنانے کے بجائے شامی فوج سے جنگ آزما دوسرے باغی گروپوں پر حملے کررہے ہیں۔