.

فلسطینیوں کا قابض اسرائیلی فورسز کے خلاف ''یوم الغضب''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ غربِ اردن اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی آج قابض اسرائیلی فورسز کی حالیہ جارحانہ کارروائیوں کے خلاف یوم الغضب منا رہے ہیں اور انھوں نے اسرائیل کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں اور جلسے،جلوس منعقد کیے ہیں۔

غزہ کی پٹی کی حکمراں اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) اور غربِ اردن میں حکمراں صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے علاوہ مختلف مزاحمتی گروپوں نے اسرائیلی فورسز کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف یوم الغضب منانے کی اپیل کی تھی اور ان جماعتوں کے زیر اہتمام مقبوضہ غربِ اردن کے شہروں وقصبوں اور غزہ کی پٹی میں نماز جمعہ کے بعد اسرائیل کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ہیں۔

اسرائیلی پولیس نے گذشتہ کئی ہفتوں کے بعد پہلی مرتبہ مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ کے لیے آنے والے مسلمانوں پر حد عمر کی پابندی ختم کردی ہے۔واضح رہے کہ ماہ ستمبر کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ کے لیے آنے والے مردوں پر عمر کی حد کی پابندی لگائی اور ختم کی جاتی رہی ہے اور چالیس سال سے کم عمر مسلمانوں کو نماز جمعہ کے لیے مسجد الاقصیٰ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی رہی ہے۔

اسرائیل نے اب پہلی مرتبہ اس ماہ کے دوران تشدد کے واقعات کے بعد یہ پابندی ختم کی ہے۔اس اقدام کا مقصد فلسطینیوں کے ساتھ پائی جانے والی کشیدگی کا خاتمہ کرنا ہے۔مقبوضہ بیت المقدس میں تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد خاص طور پر سفارتی سطح پر فریقین کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ آیا حد عمر کی پابندی کا خاتمہ صرف نمازجمعہ کے لیے عارضی طور پر کیا گیا ہے یا باقی اوقات کے دوران بھی مسلمانوں کے قبلہ اوّل میں داخلے پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

فلسطینی دھڑوں کی اسرائیل کے خلاف احتجاجی ریلیوں سے قبل جمعہ کو غربِ اردن میں ایک سولہ سالہ فلسطینی لڑکے نے ایک اسرائیلی فوجی کو چاقو گھونپ کر زخمی کردیا ہے جبکہ ایک اور اسرائیلی فوجی نے اس کو گولی کر زخمی کردیا ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یکم اکتوبر سے جاری تشدد کے واقعات میں نو اسرائیلی ہلاک اور پچاس فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔فلسطینی مقبوضہ بیت المقدس میں یہود کے نئے سال کے آغاز سے ان کی مسجد الاقصیٰ میں بلا روک ٹوک دراندازی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ مایوسی کے عالم میں یہودیوں پر چاقوؤں سے حملے کررہے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو براہ راست گولیوں یا فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہی ہے۔

اس دوران قابض فوجیوں نے ایک اسرائیلی کو بھی گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔وہ اس کو غلطی سے حملہ آور سمجھ بیٹھے تھے جبکہ یہودیوں کے مشتعل ہجوم نے ایریٹریا سے تعلق رکھنے والے ایک تارک وطن کو بھی تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا تھا۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے برلن میں جمعرات کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ چار گھنٹے تک ملاقات کے بعد محتاط انداز میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔توقع ہے کہ جان کیری ہفتے کے روز فلسطینی صدر محمود عباس اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقاتیں کریں گے۔

اسرائیلی حکومت نے گذشتہ ہفتے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تشدد کی حالیہ لہر اور خاص طور پر یہودیوں پر چاقو حملوں پر قابو پانے کے لیے حملہ آور فلسطینیوں کے سزا کے طور پر مکان مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کردیا تھا لیکن آج ایک اسرائیلی عدالت نے حکام کو فلسطینیوں کے مکان مسمار کرنے سے روک دیا ہے۔اسرائیلی کابینہ کے منظور کردہ اس ظالمانہ قانون پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے تحت ایک فرد کے فعل پر پورے خاندان کو سزا دی جارہی ہے۔