.

ویانا اجلاس میں 'بشار الاسد کا پھڈا برقرار'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی بحران کے حل سے متعلق ویانا میں چار فریقی اجلاس کے اختتام پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے توقع ظاہر کی کہ شام کے بارے میں نئے مذاکرات اگلے ہفتے دوبارہ شروع ہوں گے۔ انہوں نے کہا اگرچہ ماضی میں ہونے والی امن کانفرنسوں میں شامی صدر کے سب سے قریبی ایران کی شرکت نہیں رہی تاہم اگلے اجلاس میں تہران کی شرکت خارج از امکان نہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ترک، سعودی اور روسی ہم منصبوں سے ویانا میں ملاقات کی تھی، تاہم بشار الاسد کا معاملہ لاینحل ہی رہا اور چار فریقی اجلاس اس معاملے پر مشترکہ موقف اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔

اخبار نویسیوں سے بات کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ "ہم نے تمام فریقوں سے مشاورت پر اتفاق کیا اور مستقبل میں ایک بڑا مشاورتی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا۔ اگلے جمعہ ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ آیا نئی سنجیدہ سیاسی کوشش شروع کرنے کے لئے اتفاق رائے پیدا ہوا ہے یا نہیں۔" انہوں نے کہا کہ "میں اس بات پر مطمئن ہو کہ ویانا اجلاس تعمیری اور بار آور رہا۔ اس میں بعض ایسے نکات سامنے آئے کہ جنہیں میں فی الحال آپ سے بیان نہیں کر سکتا، مگر میں پرامید ہوں کہ آگے چل کر وہ حالات تبدیل کرنے مددگار ہوں گے۔

اگلے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ میں اس سے متعلق پیش گوئی نہیں کروں گا، تاہم اتنا کہوں گا کہ ہم چاہیں گے کہ کوئی رہ نہ جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بہتر شرکت کو یقینی بنائیں گے کیونکہ ایسا کرنا کمی سے زیادہ بہتر ہے۔

یاد رہے کہ شامی بحران کے حل سے متعلق یہ پہلا چار ملکی اجلاس تھا کہ جو اقوام متحدہ کی نگرانی کے بغیر اس امید پر ہوا کہ اس کے ذریعے دیرنیہ تنازع حل ہو سکے جو مارچ 2011ء سے ابتک ڈھائی لاکھ جانیں لے چکا ہے۔

شامی صدر کی اقتدار سے بیدخلی پر اختلافات برقرار

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ بشار الاسد کے ایوان اقتدار سے بیدخلی سے متعلق اختلافات برقرار ہیں۔ ویانا میں اجلاس کے اختتام پر 'العربیہ' کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عادل کا کہنا تھا کہ اجلاس کے شرکاء کی فہرست میں وسعت پر ہم معترض نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "سعودی عرب جنیوا 1 کے اعلامیئے پر عمل درآمد کا خواہش مند ہے۔ ہم شام کی وحدت برقرار رکھتے ہوئے اسے عبوری دور سے گذارنا چاہتے ہیں جس میں نیا دستور بنے اور انتخابات کا انعقاد ہو۔"

عوام، اسد کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ وہ شام کے مستقبل سے متعلق مذاکرات میں مصر اور ایران کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔

اجلاس کے بعد روس کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے لاروف کے بیان کے مطابق: "ہم نے کہا ہے کہ مستقل کے رابطوں میں زیادہ سے زیادہ نمائندگی کی جھلک نظر آنی چاہئے، ان کی مراد ایران اور مصر کی اجلاس میں شرکت سے تھی۔

روسی وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ شامی عوام کو بشار الاسد کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے چھوڑ دینا چاہئے۔ یہ بات امریکا اور روس کے درمیان بنیادی اختلاف ہے۔

اخبار نویسیوں سے اپنی گفتگو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ شامی صدر کے مستقبل کا فیصلہ شامی عوام کریں گے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر روسی موقف دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بشار الاسد کی اقتدار سے بیدخلی کو مسترد کرتا ہے۔