.

"بشار کو مشروط طور پر بقیہ مدت صدارت پوری کرنے دیں"

ویانا کے چار ملکی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جذباتی حامی روس نے ویانا میں ہونے والے چار ملکی اجلاس میں تحریری طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر بشار الاسد کو ان کی جاری مدت صدارت مکمل کرنے کی دی جائے تو وہ نئے صدارتی انتخاب میں امیدوار نہیں بنیں گے۔

اس امر کا انکشاف کثیر الاشاعت عرب روزنامے 'الشرق الاوسط' نے شامی اپوزیشن ذرائع کے حوالے سے جمعہ کے روز ویانا میں ختم ہونے والے چار ملکی اجلاس کی اندرونی کہانی بیان کرتے ہوئے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کیا۔

روسی نقشہ راہ میں شامی اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل 'فری سیرئین آرمی' کے خلاف بشار الاسد فوج کی لڑائی روکنے کا بھی ذکر تھا۔ نیز ایک دوسرے کے زیر نگین علاقوں کے حصار کا خاتمہ، پارلیمانی انتخابات، عبوری حکومت اور صدارتی انتخاب جیسے امور پر بھی روسی آمادگی اجلاس میں نمایاں تھی، تاہم ان امور پر عملدرآمد کے لئے کسی باقاعدہ ٹائم فریم کا ذکر نہیں کیا گیا۔

زیر بحث آنے منصوبہ میں یہ بات بھی طے کی گئی کہ شام میں بمباری کرنے والے ملکوں کے درمیان ممکن الحصول اہداف کی نشاندہی بھی ضروری ہے۔ شام میں جو تنظمیں سیاسی حل پر بات کرنے سے انکاری ہیں انہیں بھی 'ٹارگٹ' میں رکھنا ضروری ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ روس کے مجوزہ ٹائم فریم کی مدت معاہدہ طے پانے کی تاریخ کے بعد 15 سے 18 ماہ کے دوران مکمل ہونی چاہئے۔ عبوری حکومت کے ذیل میں وزارتی تفصیل پر گفتگو، ذرائع کے مطابق، کے دوران روس نے اطمینان دلایا کہ نیا عبوری سیٹ اپ ٹیکوکریٹ پر مشمتل اتفاق رائے سے بن سکتا ہے۔