.

روسی امداد کی پیش کش ٹھکرائی نہیں: شامی جیش الحر

روسی طیارے باغی گروپوں کے ٹھکانوں اور شہری علاقوں پر حملے بند کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغرب کے حمایت یافتہ شامی باغیوں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر نے کہا ہے کہ اس نے روس کی جانب سے فوجی امداد کی پیش کش کو ٹھکرایا نہیں ہے لیکن روس کو پہلے شام میں اس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے ہفتے کے روز ایک نشری انٹرویو میں کہا تھا کہ روسی فضائیہ شام میں جہادیوں سے لڑنے والے ''محبِّ وطن'' باغیوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔ان کا یہ بیان روس کے شام سے متعلق مؤقف میں نمایاں تبدیلی کا عکاس ہے۔اس سے پہلے روس بشارالاسد کی حمایت کرنے والے جنگجو گروپوں کے لیے ہی ''محبِّ وطن'' کی ترکیب استعمال کرتا رہا ہے۔

جیش الحر کے ایک ترجمان میجر اعصام الریس نے سوموار کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم نے اس پیش کش کو مسترد نہیں کیا ہے ۔ہم نے صرف یہ کہا ہے کہ اگر روسی اپنی اس پیش کش میں سنجیدہ ہیں توانھیں فوری طور پر ہمارے فوجی اڈوں اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔اس کے بعد ہی ہم مستقبل میں تعاون سے متعلق کوئی بات کرسکتے ہیں''۔

ترجمان نے بتایا کہ ان کے جیش الحر کو اس وقت چار فوجوں کا سامنا ہے لیکن اس کے پاس ان کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہتھیار نہیں ہیں اور عالمی برادری کی جانب سے بھی انھیں مسلح کرنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا ہے۔

روس کے لڑاکا طیارے 30 ستمبر سے شام کے مغربی علاقوں میں صدر بشارالاسد کے مخالف باغی گروپوں اور داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔روسی طیاروں نے جیش الحر سے وابستہ باغی گروپوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور ناقدین کے بہ قول انھوں نے داعش سے زیادہ ان گروپوں کے ٹھکانوں پر ہی حملے کیے ہیں۔

جیش الحر کو شامی فوج کے علاوہ داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کا بھی سامنا ہے۔گذشتہ مہینوں کے دوران شام کے شمال میں جیش الحر کے زیر قبضہ بہت سے علاقے داعش یا پھر النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں نے چھین لیے تھے۔البتہ اردن اور اسرائیل کی سرحد کے نزدیک علاقوں پر جیش الحر میں شامل گروپوں کا قبضہ برقرار ہے۔

واضح رہے کہ جیش الحر کو صدر بشارالاسد کے مخالف ممالک ترکی اور خلیجی عرب ریاستوں کی جانب سے ترکی اور اردن کے راستے اسلحہ مہیا کیا جارہا ہے اور امریکا کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے جیش الحرمیں شامل بعض اعتدال پسند گروپوں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو عسکری تربیت دی تھی۔ایک گروپ کو صدر بشارالاسد کے مخالف ممالک کی جانب سے ٹینک شکن میزائلوں سمیت فوجی امداد مہیا کی گئی تھی۔