.

پانچ سال میں پاسداران انقلاب کے 400 اہلکار شام میں ہلاک

کوئی فوجی شام میں براہ راست ہلاک نہیں ہوا، سوائے جھوٹ کے کچھ نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے خبر رساں اداروں نے حال ہی میں شام کے شمالی شہر حلب میں دو مزید ایرانی فوجی افسروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ حکومت مخالف باغیوں کے حملوں میں ہلاک ہونے والے ایرانی فوجیوں کی شناخت ہواباز روح اللہ عمادی باشکلائی اور سجاد طاہر نیا کے نام سے کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بہ ظاہر ایرانی حکام یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شام کے محاذ جنگ میں اس کا کوئی فوجی براہ راست جنگ میں شامل نہیں مگر اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مارچ 2011ء سے صدر بشارالاسد کے خلاف شروع ہونے والی عوامی بغاوت کی تحریک میں اب تک کم سے کم 400 ایرانی فوجی اور پاسداران انقلاب کے ماتحت کام کرنے والی نیم سرکاری ملیشیا کے جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی "اناطولیہ" کے مطابق شام میں ایران کے 300 باضابطہ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں 26 سینیر افسران شامل ہیں۔ دیگر مختلف عسکری گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں ایران سے جنگ کے لیے بھرتی کیا گیا۔ جنگجووں میں مقامی ایرانی باشندے بہت کم ہیں۔ زیادہ تر افغان مہاجرین اور پاکستانی ان گروپوں میں شامل ہیں۔ ایرانی اخبارات میں شام میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنگجوئوں اور فوجیوں کی تفصیلات اکثر شائع ہوتی رہتی ہیں۔

ہلاک ہونے والے سرکردہ عہدیدار

خبر رساں اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شام کے محاذ جنگ میں براہ راست لڑائی کے دوران پانچ سال میں اب تک ایران کے آٹھ فوجی جنرل ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سر فہرست میجر جنرل حسین ھمدانی ہیں۔ مسٹر ہمدانی القدس ملیشیا کے ڈپٹی کمانڈر انچیف کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ اس تنظیم کی قیادت ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کر رہے ہیں۔ جنرل ہمدانی چند ہفتے پیشتر شام کے شمالی شہر حلب میں مارے گئے۔ دیگر اعلیٰ افسران میں اسماعیل حیدری، حسن شاطری، عبداللہ اسکندری، جبار دریساوی، محمد جمالی، حمید طبطبائی مہر شامل ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق عہدیدار اور پارلیمنٹ [مجلس شوریٰ] کی خارجہ و دفاعی کمیٹی کے چیئرمین جواد کریمی مقدسی نے سنہ 2013ء میں اعتراف کیا تھا کہ ان کے ملک کے سیکڑوں گروپ شام میں لڑ رہے ہیں۔

حلب میں پائلٹ کی ہلاکت

پاسداران انقلاب کی مقرب نیوز ایجنسی"مشرق" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 36 سالہ پائلٹ عمادی باشکلائی شام کے شمالی شہر حلب میں باغیوں کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ عمادی کا آبائی تعلق شمالی ایران کے مازندان صوبے سے تھا۔

افغانی کمانڈر کی ہلاکت

"مشرق" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں حالیہ ایام میں مارے جانے والوں میں "فاطمیون" ملیشیا کے زیرانتظام ایک عسکری بریگیڈ "عمار" کے کمانڈر مصطفیٰ صدر زادہ جمعہ کی شام جنوبی حلب میں فوجیوں کی عسکری رہ نمائی کرتے ہوئے مارے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں مصطفیٰ صدر زادہ کو اصل نام کے بجائے سید ابراہیم کی عرفیت سے جانا جاتا تھا۔

قبل ازیں ایران نے شام میں اپنے آٹھ اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ ان میں کچھ پاسداران انقلاب کے باضابطہ عہدیدار تھے جنہیں مبینہ طور پر شام میں اسدی فوج کی عسکری رہ نمائی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ان میں محمد استحکامی جہرمی پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے بریگیڈ 33 کے اہم عہدیدار تھے اور ان کا تعلق وسطی ایران کے صوبہ فارس کے جھرم شہر سے تھا۔

"فاطمیون'' ملیشیا کی چھتری تلے لڑنے والے ایک دوسری جنگجو رضا خاوری کی میت بھی حال ہی میں ایران لائی گئی جہاں اسے فوجی اعزاز و اکرام کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک عہدیدار بریگیڈیئر رمضان شریف نے بتایا کہ دو فوجی عہدیدار عبداللہ باقری اور امین کریمی کو حال ہی میں شام میں اس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ بشارالاسد کی فوج کی رہ نمائی کی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔