.

اسرائیل نے ایک ماہ میں 1250 فلسطینی گرفتار کئے

حراست میں لیے جانے والوں میں نصف بچے بتائے جاتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی وزیر برائے امور اسیران نے بتایا ہے کہ رواں ماہ [اکتوبر] کے دوران اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کی پکڑ دھکڑ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہےاور اب تک کم سے کم ساڑھے بارہ سو فلسطینیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے جانے والوں میں نصف فلسطینی بچے شامل ہیں۔

العربیہ کے مطابق فلسطینی وزیر عسیٰ قراقع نے رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے بیت المقدس سے 643 فلسطینیوں کو حراست میں لیا۔ القدس سے گرفتار کیے گئے شہریوں میں 55 فی صد بچے ہیں۔

حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے مشرقی بیت المقدس کے لاکھوں فلسطینیوں کی سکونت سلب کرنے کی تجویز دیتے ہوئے انہیں جاری کردہ زرد کارڈ واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی موجودہ مزاحمتی تحریک کے بعد ان کے پاس دیوار فاصل کی دوسری جانب فلسطینیوں کو جاری کردہ زردکارڈز واپس لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

اگرچہ فی الحال یہ ایک تجویز ہے جس پر اسرائیلی اپوزیشن نے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ نیتن یاھو القدس کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ متحدہ بیت المقدس اسرائیل کا ابدی دارالخلافہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔