.

شام میں عسکری مہم جوئی کی تفصیل ایرانی جنرل کی زبانی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک عہدیدار نے پہلی بار یہ اعتراف کیا ہے کہ ان کے ملک نے شام میں سیدہ زینب کے مزار کی حفاظت کی آڑ میں صدر بشارالاسد کی مدد کے لیے اپنے فوجی اور غیر سرکاری جنگجو بھیجے ہیں۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ حالیہ ایام میں شام میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مقتولین میں جنرل حسین ھمدانی جیسے پاسداران انقلاب کے سینیر عہدیدار بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک ٹی وی انٹرویو میں ایرانی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف جنرل حسین سلامی نے اعتراف کیا کہ ایرانی فوج شام میں نہ صرف بشارالاسد کی فوج کی عسکری رہ نمائی اور مشاورت کا کام کر رہی ہے بلکہ شام کے محاذ جنگ میں بھی براہ راست موجود ہے۔

ایرانی فوجی عہدیدار کا یہ بیان کہ ان کی فوج شام میں محاذ جنگ پر بھی لڑ رہی ہے ایران کے سرکاری موقف کے برعکس ہے۔ تہران سرکار کا دعویٰ یہ رہا ہے کہ شام میں اس کی فوج صرف مشاورتی مہم تک محدود ہے۔ محاذ جنگ میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔

تاہم جنرل حسین سلامی نے شام میں ایرانی فوج کی موجودگی کی اصلیت کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ ٹی وی انٹرویو کے دوران جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ حالیہ ہفتوں میں شام میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ کیوں ہوا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارے فوجی شام میں محاذ جنگ پر بھی موجود ہیں۔ چند ماہ قبل جب شامی حکومت نے اپنی فوج کے ڈھانچے کو نئے خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا تو دمشق کی جانب سے تہران سے مزید فوجی بھجوانے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس لیے ہم نے شام میں اپنی فوج کی تعداد دوگنا کر دی تھی۔

جنرل حسین سلامی کا کہنا تھا کہ ہماری فوج شام کے مختلف محاذوں پر فرنٹ لائن پر موجود ہے۔ جب تک ہماری عسکری ماہرین محاذ جنگ کی کیفیت کو خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھیں گے تو وہ عسکری رہ نمائی کیسے کر سکیں گے۔ اس لیے ہماری فوج براہ راست میدان جنگ میں موجود ہے۔

شام میں روسی فوج کی حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں شام کے محاذ جنگ پر آنے والی تبدیلیوں سے متعلق سوال کے جواب میں جنرل حسین سلامی کا کہنا تھا کہ روسی فوج کی کارروائی نہایت اہمیت کی حامل ہے جس نے شکست خوردہ شامی فوج کو ایک نیا حوصلہ دیا ہے۔ پیش آئند ایام میں شامی فوج کئی ایک محاذوں پر فتح کے جھنڈے بھی گاڑے گی۔

خیال رہے کہ جنرل حسین سلامی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ جنوبی حلب میں شامی باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ایرانی پاسدارن انقلاب کے 20 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ شام میں کم سے کم 2000 ایرانی فوجی افسر اور محاذ جنگ پر لڑںے والے ماہر سپاہی تعینات ہیں جو بشارالاسد کی فوج اور لبنانی حزب اللہ کے جنگجوئوں کے ساتھ مل کر مغربی شام میں باغیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

جنرل حسین سلامی نے اپنے انٹرویو میں شام میں ایرانی فوج کی موجودگی کے چار اہم اہداف بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں ہماری فوج کی موجودگی کا پہلا مقصد صدر اسد کی حامی عسکری قوتوں کو اپنی جنگی مہارتوں سے آگاہ کرنا اور شامی فوج کے ڈھانچے دوبارہ منظم کرنا ہے۔ دوسرا مقصد شامی فوج کی محاذ جنگ میں رہ نمائی اور مشاورت کے ساتھ ان کی عسکری تربیت کرنا ہے۔ تیسرا مقصد ٹیکٹیکل نوعیت کا ہے جس میں ہمارے فوجی شام کے محاذ جنگ پر موجود فوجیوں کو رہ نمائی بہم پہنچا رہے ہیں اور چوتھا مقصد شامی فوجیوں کی فنی معاونت، لاجسٹک اسپورٹ اور اسلحہ کی فراہمی ہے۔