.

شامی حزب اختلاف اور باغی ویانا مذاکرات میں غیر مدعو!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویانا میں شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے جمعہ کو ہونے والے مذاکرات میں حزب اختلاف کے قومی اتحاد اور مسلح باغیوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے جبکہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے ان مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

امریکا نے ان مذاکرات میں ایران کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے اور وہ پہلی مرتبہ شامی تنازعے کے بارے میں عالمی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں شریک ہوگا۔تاہم شامی حزب اختلاف نے اس کو مدعو کرنے پر اعتراض کیا ہے کیونکہ وہ شامی صدر بشارالاسد کی مسلح حمایت کررہا ہے۔

شامی قومی اتحاد کے ایک سرکردہ رہ نما جارج صابرہ نے کہا ہے کہ شامیوں کو ویانا مذاکرات میں شرکت کی دعوت نہ دینا عدم سنجیدگی کا مظہر ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کے اتحاد کو مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ''ایسا کچھ نہیں ہوا ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ان مذاکرات کا یہ سب سے کمزور پہلو ہے کیونکہ اس میں شامیوں کے ایشوز کے بارے میں ان کی غیر موجودگی میں تبادلہ خیال کیا جائے گا''۔

شام کے منحرف فوجیوں اور باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحرمیں شامل یرموک آرمی کے ایک کمانڈر بشارالزوبی نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ مسلح حزب اختلاف کے نمائندوں کو ویانا مذاکرات میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ایران تو خود مسئلے کا حصہ ہے اور وہ اس کا حل نہیں بن سکتا اور اس کی شرکت سے دنیا پر یہ بات ثابت ہوجائے گی۔سعودی عرب اور ترکی نے ایران کے اس کردار کو نمایاں کرنے کے لیے ویانا مذاکرات میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے''۔

امریکا نے شام میں جاری تنازعے کا کوئی ممکنہ حل تلاش کرنے کی غرض سے ایران کو پہلی مرتبہ مدعو کیا ہے۔ان مذاکرات میں دس بارہ ممالک کے مندوبین کی شرکت متوقع ہے اور ان کے درمیان شامی تنازعے پر دو طرفہ اور کثیر جہت بات چیت ہوگی ۔

امریکا نے ایران کو مذاکرات میں مدعو کرنے سے پہلے سعودی عرب کو اعتماد میں لیا تھا کیونکہ سعودی عرب ایران کی شام ،عراق اور یمن میں فوجی مداخلت کی وجہ سے امن مذاکرات میں شریک کرنے کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اس کا یہ مؤقف رہا ہے کہ ایران کا شامی بحران کے پُرامن حل میں کوئی کردار نہیں ہے کیونکہ وہ وہاں خود ایک مسلح فریق ہے۔