.

بشار کے مستقبل پر بات 'سرخ لکیر' ہو گی: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے آج بروز جمعہ شام کے بحران کے حل کے سلسلہ میں ویانا کے مقام پر ہونے والی عالمی کانفرنس سے قبل ہی اپنی نیت کا فیصلہ سنا دیا ہے اور کہا ہے کہ مذکرات میں بشارالاسد کے سیاسی مستقبل پر بات کرنا بھی "سرخ لکیر" سمجھا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک ٹی وی انٹرویو میں ایرانی نائب وزیرخارجہ حسین عبداللھیان نے کہا ہے کہ ایران میں شام میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تو کئی باربات کی ہے۔ مگر ہم ایسی کسی بات کا حصہ نہیں بنیں گےجس میں صدر بشارالاسد کے سیاسی مستقبل پر کوئی مک مکا کیا جا رہا ہوگا۔

ایرانی نائب وزیرخارجہ نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی ہے جہ پوری دنیا کا موقف ہے کہ ایران کئی ملکوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور فرقہ وارانہ قتل عام میں ملوث ہے۔ عراق اور شام اس کی واضح مثالیں موجود ہیں۔ لبنانی حزب اللہ بھی ایران کا ایک آلہ کار ہے جسے فرقہ واریت اور دہشت گردی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

حسین عبداللھیان نے کہا کہ ویانا مذاکرات میں بشارالاسد کے سیاسی مستقبل پر بات چیت "سرخ لکیر" سمجھی جائے گی۔ دشمن بشارالاسد کو شام کی سیاست سے "مائنس" کرنا چاہتا ہے۔ شام کا کون حکمراں ہونا چاہیے کون نہیں۔ اس کا فیصلہ باہر بیٹھی قوتوں کے بجائے شامی قوم کو دیا جانا چاہیے۔ شامی عوام فیصلہ کریں کہ وہ بشارالاسد کو اپنا صدر مانتے ہیں یا نہیں ۔

خیال رہے کہ آج جمعہ کو ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں ترکی، سعودب عرب اور روس اور امریکا سمیت متعدد ملکوں کے وزراء خارجہ شرکت کررہے ہیں۔ اجلاس میں ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف بھی شرکت کریں گے۔

قبل ازیں ایرانی قومی سلامتی کےسیکرٹری علی شمخانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ویانا اجلاس میں غیر مشروط طورپر شرکت کرے گا۔ مسٹر شمخانی کا کہنا تھا کہ شام کے بحران کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔

ویانا اور جنیوا میں اس سے قبل متعدد مرتبہ شام کے بحران کے حل کے لیے عالمی طاقتیں سرجوڑ کر بیٹھتی رہی ہیں مگر آج تک کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ ان مذاکرات میں پہلی بار ایران کو بھی شریک کیا گیا ہے۔

ماسکو اور تہران کی سنجیدگی کا امتحان

سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ ویانا اجلاس میں ایران اور روس کی شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں سنجیدگی سامنے آجائے گی۔

بدھ کو اپنے برطانوی ہم منصب فیلپ ہیمونڈ کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الجبیر نے کہا کہ ویانا اجلاس شام کے بحران کے سیاسی حل کا اہم موقع ہے۔ مگر مذکرات کی کامیابی کا پہلا مرحلہ بشارالاسد کی اقتدار سے علاحدگی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب شام میں اعتدال پسند اپوزیشن قوتوں کی مدد اور حمایت جاری رکھنے کا پابند ہے۔

گذشتہ روز امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور عادل الجبیر کے درمیان بھی ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں بھی آج جمعہ کے روز ویانا میں ہونے والے مذاکرات پر بات چیت کی گئی تھی۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ ویانا مذاکرات شام کے بحران کے حل کا آخری موقع ہے۔ شام کو تباہی سے بچانا ہے تو مذٓکرات کو نتیجہ خیز بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی ان مذاکرات میں شرکت تہران کا امتحان ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور روس کی قیادت کو ویانا مذاکرات میں شرکت کی دعوت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب یہ دونوں ملک شام میں صدر بشارالاسد کو بچانے کے لیے عملا فوجی کارروائیاں کررہے ہیں۔ روس ایک ماہ سے فضائی حملوں میں اعتدال پسند شامی اپوزیشن گروپوں کے مراکز پر بھی بمباری کر رہا ہے جب کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے سیکڑوں فوجی اور نیم فوجی ملیشیا شام میں لڑ رہی ہیں۔