.

"تعز" میں حکومتی ملیشیا کے حملوں میں 27 حوثی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے ساحلی شہر تعز میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم ملیشیا اور حکومتی فوج کی تازہ کارروائیوں میں کم سے کم 27 حوثی باغی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حکومت نواز فورسز کی کارروائیوں میں تعز میں حوثیوں کو بھاری جانی نقصان سے دوچار کیا گیا ہے۔ آخری اطلاعات تک تعز کے مختلف مقامات پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا جس کی نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تعز میں شدید مزاحمت کے بعد حوثی شدت پسندوں اور علی صالح کے وفادروں کو الضالع گورنری کے دمت شہر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ ذمار اور یریم شہروں سے بھی حوثیوں کی نفری دمت کی طرف بڑھ رہی ہے۔

خیال رہے کہ یمن کے جنوبی ضلع الضالع میں حالیہ ایام میں حوثی باغیوں اور حکومت نواز ملیشیا کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی ہے۔ حوثیوں نے الضالع گورنری اور اس کے مختلف شہروں پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے پوری قوت کا استعمال کیا ہے مگر باغیوں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

حکومتی فورسز کی مآرب کی جانب پیش قدمی

العربیہ ٹی وی کو اپنے ذریعے سے یمن کے محاذ جنگ سے اطلاع ملی ہے کہ اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے اتوار کو علی الصباح مآرب گورنری کے حریب اور اور شبوہ کے ویبحان شہروں میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر کم سے کم 15 حملے کیے ہیں جن میں دسیوں باغیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مآرب سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ مزاحمتی فورسز اور حکومتی فوج نے شہر کے مغربی علاقے صرواح اور تلہ الملح سے باغیوں کا صفایا کر دیا ہے اور حکومتی فورسز تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حوثی باغی اور سابق صدرعلی عبداللہ صالح کے وفادار لاشیں اور زخمی چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مآرب میں جاری لڑائی کے دوران حکومتی فورسز کو باغیوں کا چھوڑا گیا اسلحہ بھی ہاتھ لگا ہے۔

وسطی یمن میں البیضاء کے مقامپر زمینی کارروائی کے دوران طیاب کے مقام پر سات باغی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ تعز میں پہلی بار مزاحمت کاروں کو "تائو" راکٹ مہیا کیے گئے ہیں جس کے بعد باغیوں کے خلاف لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔