.

شامی صدر کے حاشیہ برداروں کو ان کے قتل کا خوف دامن گیر

بشار کی رہائش گاہ کے تحفظ کے لیے میزائل بیس بنائی جائے: پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت کی حامی ویب سائٹس نے سوموار کو بشار الاسد کے شاہی محل المعروف 'قصر جمہور' پر فوجی لڑاکا طیاروں کی بمباری کی خبریں نشر کی ہیں۔

بشار الاسد کے حامی ذرائع نے 'روسی خفیہ اداروں' کے حوالے سے بتایا ہے کہ شامی صدر کی رہائش گاہ پر ایسے فضائی حملے کا 'سنگین خطرہ' ہے۔ انہی ذرائع بے بتایا کہ بشار الاسد کے محل کی فضائی نگرانی کے لیے روس نے اپنے 'سخوئی 34' طیاروں کو فضا میں رہنے کا حکم دیا ہے۔

شامی سیکیورٹی اور خفیہ اداروں کی مقرب سمجھی جانے والی بشار الاسد نواز ایک ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی لڑاکا طیاروں کو حکم دیا گیا ہے کہ 'قصر جمہور' پر حملے کرنے والے کسی بھی جہاز کو فوری طور پر بغیر کسی کو اطلاع دیے اور اجازت لیے مار گرایا جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ روس شامی صدر کی رہائش گاہ کے تحفظ کے لئے ایک قلیل مدتی میزائل بیس بنانا چاہتا ہے۔

شامی سیکیورٹی کے مقرب انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق یہ اقدام روسی صدر ولادی میر پوتین کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔اس کا مقصد رہائش گاہ یا دفتر پر ممکنہ حملے میں بشار الاسد کے قتل کے بعد شام میں طاقت کا توازن بگڑنے سے روکنا ہے۔