.

عراق: پارلیمان کی منظوری کے بغیر اصلاحات پر پابندی

پارلیمان نے قرارداد کے ذریعے وزیر اعظم حیدر العبادی کو اصلاحات سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی پارلیمان نے ایک قرارداد کے ذریعے وزیراعظم حیدر العبادی کی حکومت کو منظوری کے بغیر اصلاحات کے عمل سے روک دیا ہے اور ان کے اصلاحات کے نام پر کیے گئے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔

عراقی پارلیمان نے وزیر اعظم حیدرالعبادی کے اگست میں اصلاحات کے یک طرفہ اقدام کے ردعمل میں سوموار کو یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے نائب صدور ،نائب وزرائے اعظم کے عہدے ختم کرنے اور سرکاری ملازمین کی تن خواہوں میں کمی کے اقدامات آئین کے منافی ہیں۔

عراقی پارلیمان کے ایک رکن نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''اس قرارداد کی منظوری کے بعد اب وزیر اعظم کو مطلق العنان اختیارات حاصل نہیں رہے ہیں''۔

عراق کے حکمراں اتحاد کے ساٹھ سے زیادہ ارکان نے گذشتہ ہفتے ایک خط میں یہ دھمکی دی تھی کہ اگر وزیر اعظم حیدرالعبادی نے ان کے مطالبات پر کان نہیں دھرے تو وہ ان کی اصلاحات کی حمایت نہیں کریں گے۔اس خط پر دستخط کرنے والے بیشتر ارکان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم نوری المالکی کے حامی ہیں۔

حیدرالعبادی نے اگست میں دارالحکومت بغداد اور دوسرے شہروں میں پانی،بجلی اور دوسری بنیادی خدمات کی عدم دستیابی کے خلاف شہریوں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد وسیع تر اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔ان کے تحت بعض سیاسی عہدے ختم کردیے گئے تھے اور بدعنوانیوں میں ملوّث عراقی فوج کے متعدد اعلیٰ عہدے داروں کو برطرف کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نوری المالکی پر ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم کو گہرا کرنے اور سنی آبادی کو دیوار سے لگانے کے الزامات عاید کیے گئے تھے جس کی وجہ سے سخت گیرجنگجو گروپ داعش کو سنی اکثریتی صوبوں میں سر اٹھانے کا موقع ملا تھا۔

نوری المالکی کے دورحکومت میں عراقی سکیورٹی فورسز میں بھرتیوں کے دوران اہل تشیع کو ترجیح دی گئی تھی مگر ان کی پیشہ ورانہ تربیت پر کوئی توجہ مرکوز نہیں کی گئی تھی اور داعش کے جنگجوؤں کی گذشتہ سال جون میں شمالی شہر موصل پر یلغار کے وقت وہاں سے عراقی فوج اور پولیس تتر بتر ہوگئی تھی اور وہ حملہ آوروں کا مقابلہ نہیں کر سکی تھی۔

حیدر العبادی نے ستمبر 2014ء میں جب وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا تو ان کے بارے میں یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان گہری ہوتی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کریں گے اور سنی آبادی کے تحفظات کو دور کریں گے،ملک سے بد عنوانیوں کا خاتمہ کر کے اس کو ترقی کی راہ پر ڈال دیں گے مگر انھیں طاقتور سیاسی گروپوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان کے اصلاحاتی عمل کی بھی سخت مخالفت کی گئی ہے۔

اب تک ان کی اعلان کردہ بعض اصلاحات پر ہی عمل درآمد ہوسکا ہے جبکہ بعض پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ انھوں نے تین نائب صدور کے عہدے ختم کیے تھے لیکن وہ تینوں صدور ابھی تک اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔ ان میں نوری المالکی بھی شامل ہیں۔