.

فلسطینی جوڑے کی بعد از شہادت رسمِ نکاح!

ماتم زدہ ماحول میں شہنائی کی ہلکی پھوار کا چھڑکائو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کا نشانہ تو آئے روز فلسطینی بنتے ہیں مگر بعض شہداء فانی دنیا سے کوچ تو کر جاتے ہیں مگر ان کی شہادت کے واقعات ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تاریخ میں امر ہونے والے شہداء میں اس فلسطینی جوڑے کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس میں دونوں [لڑکی اور لڑکے] کی نسبت ان کی زندگی میں ہوئی مگر ان کی شادی کی تقریب ان کی شہادت کے بعد منعقد کی گئی۔

یہ حیرت انگیز اور افسردہ کر دینے والی کہانی شہید نوجوان ساکت جرادات اور اس کی منگیتر دانیا ارشید کی ہے۔ دونوں کی نسبت حال ہی میں مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کے "سعیر" قصبے میں ان کے والدین نے طے کی تھی۔ منگنی کے ایک روز بعد صہیونی دہشت گردوں نے 17 سالہ دانیا ارشید کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ اس پر ایک یہودی فوجی پر چاقو سے حملے کی کوشش کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

ساکت جرادات کو اپنی منگیترکی شہادت کا علم ہوا تو اس نے اس کی بعد ازشہادت ایک تصویر "فیس بک" کے صفحے پر پوسٹ کی جس پر لکھا کہ" فرض کریں یہ آپ کی ہمشیرہ ہے"۔ دانیا کی شہادت کے تین روز بعد اسرائیلی فوجیوں نے ساکت جرادات کو بھی گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ دونوں شہداء کے جسد خاکی قبضے میں لے لیے اور پوسٹ مارٹم کی آڑ میں کئی دن تک ان کی چیر پھاڑ کرتے رہے۔ جمعہ کی شام دونوں کے جسد خاکی ان کے ورثاء کے حوالے کیے گئے جہاں دونوں ایک ہی قبرستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جا سوئے ہیں۔

احمد ساکت جرادات اور دانیا ارشید کی روحیں یقینا آخرت کی ابدی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گی مگر ان کے اہل خانہ نے اپنے بچوں کی ان کی شہادت کے بعد رسم نکاح منعقد کر کے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔ گذشتہ روز السعیر قصبے میں منعقد ہونے والی رسم نکاح میں ماتم کا رنگ نمایاں تھا۔

بعد از شہادت شہداء کی رسم نکاح میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ شہداء کی فرضی رسم نکاح کی تقریب میں جذباتی مناظر کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا مگر لوگ نعرہ تکبیر"اللہ اکبر"سے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر اس منفرد شادی پر جذباتی تبصرے جاری ہیں اور سوشل میڈیا پر اسے اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے ساتھ 'مسرت کشی' کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔