.

عراق کے معروف سیاست دان احمد الجلبی چل بسے!

مرحوم نے امریکا کو عراق پر حملے کے لیے اکسانے میں اہم کردار ادا کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے معروف سیاست دان اور امریکا کو مارچ 2003ء میں اپنے ملک پر چڑھائی کی ترغیب دینے والے احمد الجلبی (احمد شیلابی) دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے ہیں۔

عراقی پارلیمان کی مالیاتی کمیٹی کے سیکریٹری ہیثم الجبوری نے بتایا ہے کہ احمد الجلبی منگل کے روز بغداد میں اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔ایک اور رکن پارلیمان نے بھی ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔

احمد الجلبی نے عراق کے سابق صدر صدام حسین کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے مبینہ ہتھیاروں کے بارے میں امریکا کو خفیہ معلومات فراہم کی تھیں اور سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ان ہتھیاروں کو بنیاد بنا کر ہی عراق پر حملہ کیا تھا مگر بعد میں یہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کہیں سے نہیں ملے تھے۔

وہ صدام حسین کے دور میں برطانیہ اور امریکا میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرتے رہے تھے اور وہ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وطن واپس آئے تھے۔ایک وقت میں ان کا نام بھی وزیراعظم کے طور پر لیا گیا تھا لیکن وہ اس عہدے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں اور گروپوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

ان پر امریکا کی عراق پر چڑھائی کے بعد ایران کو بھی معلومات فراہم کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا حالانکہ امریکا اور ایران کے درمیان اس وقت تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔

احمد الجلبی کے خلاف صدام حسین کے دور حکومت میں اردن میں ایک بنک کے دیوالیہ ہونے پر مالی فراڈ کے الزام میں مقدمے میں 1992ء میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور انھیں قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

وہ اکتوبر 1944ء میں بغداد میں ایک دولت مند گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔وہ 1956ء میں بیرون ملک چلے گئے تھے اور انھوں نے بیشتر وقت برطانیہ اور امریکا میں گزارا تھا اور وہیں سے انھوں نے ریاضی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔

انھوں نے شمالی عراق میں 1990ء کے عشرے میں کردوں کو صدام حکومت کے خلاف بغاوت پر ابھارنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا لیکن صدام حسین نے اس بغاوت کو سختی سے کچل دیا تھا اور ان کی سکیورٹی فورسز نے کرد باغیوں کے خلاف مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔احمد الجلبی ان واقعات کے بعد بیرون ملک فرار ہوگئے تھے اور امریکا کی قیادت میں اتحادی فوجوں کے عراق پر حملے کے بعد بغداد لوٹے تھے۔

امریکا نے صدام حکومت کے خاتمے کے بعد اپنے زیر نگرانی ایک گورننگ کونسل بنائی تھی اور وہ اپنی باری پر اس کے صدر بھی بنے تھے۔بعد میں وہ ملک کے نائب وزیراعظم بھی رہے تھے لیکن وہ اپنی خواہش کے مطابق اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں ہوسکے تھے۔