.

ایران: جوہری معاہدے کے باوجود "مرگ بر امریکا" کا نعرہ قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی پارلیمنٹ [مجلس شوریٰ] کے ارکان نے کہا ہے کہ حکومت اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازع کے حل کے سلسلے میں طے پائے سمجھوتے کے باوجود وہ امریکا کے حوالے سے اپنا موقف تبدیل نہیں کریں گے اور "مرگ برامریکا" کا نعرہ برقرار رکھا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے 290 ارکان میں سے 192 نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران شہداء کی قوم ہے۔ امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام کی ڈیل کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم مرگ بر امریکا کے نعرے سے بھی پیچھے ہٹ جائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "مرگ بر امریکا" کا نعرہ اسلامی جمہوریہ ایران ہی نہیں بلکہ ہر مظلوم قوم کی ظلم کے خلاف جدو جہد کی علامت ہے۔

ایرانی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں سنہ 1979ء کے انقلاب کے بعد امریکی سفارت خارنے پر حملے کے 36 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ سنہ 1979ء میں شدت پسند ایرانیوں نے 444 دن تک امریکی سفارت خانے کا گھیرائو کر کے سفارتی عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں امریکا، روس، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے درمیان 14 جولائی کو طے پائے سمجھوتے کے بعد بھی امریکا کے حوالے سے ایران کا لب و لہجہ تبدیل نہیں ہواہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای متعدد مرتبہ واشنگٹن پر تنقید کرتے ہوئے امریکا پر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام عاید کرتے رہے ہیں۔