.

داعش کے شامی ''دارالحکومت'' پر فضائی حملے، 23 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ''دارالحکومت'' الرقہ میں لڑاکا طیاروں نے متعدد فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں تیرہ جہادیوں سمیت تیئیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ شامی فوج یا پھر روسی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے یہ بمباری کی ہے۔

انھوں نے اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے الرقہ میں مختلف حصوں میں واقع داعش کے ٹھکانوں اور اس کے زیرانتظام عمارتوں پر سولہ فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں داعش کے تیرہ جنگجو اور دس عام شہری مارے گئے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں الرقہ کے صرف ایک اسپتال سے ان ہلاکتوں کے بارے میں پتا چلا ہے اور سکیورٹی کی پابندیوں کی وجہ سے دوسرے اسپتالوں یا طبی مراکز تک ان کے ذرائع کی رسائی نہیں ہوسکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ داعش نے جنوری 2014ء میں الرقہ پر قبضہ کیا تھا اور وہاں سے مختلف باغی گروپوں کو لڑائی کے بعد نکال باہر کیا تھا۔مختلف باغی گروپوں نے اس سے ایک سال پہلے شامی فوج کو شکست دینے کے بعد اس شہر پر قبضہ کیا تھا۔

داعش نے گذشتہ سال اپنی خلافت کے اعلان کے بعد اس شہر کو اپنا''دارالخلافہ'' بنا دیا تھا۔اس شہر پر شامی فوج اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ ایک سال کے دوران داعش کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔

آبزرویٹری کی ایک اور اطلاع کے مطابق شام کے شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں کرد عرب اتحاد داعش کے خلاف جنگ میں پیش قدمی کررہا ہے اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں اور شامی ڈیمو کریٹک فورسز کے ساتھ لڑائی میں داعش کے سات جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔