.

یمن: مزاحمت کاروں کے حملے میں 8 حوثی شدت پسند ہلاک

تعز کا محاصرہ توڑنے کے لیے ٹینکوں اور توپخانے سے گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شمالی ضلع الضالع میں حکومت نواز فورسز نے حکومتی فورسز نے گھات لگا کر کے کم سے کم آٹھی حوثی شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوموار کے روز الضالع گورنری کے شمالی ڈاریکٹوریٹ "دمت" میں واقع النجار اسپتال کے قریب مزاحمت کاروں نے چھپ کر حوثیوں کی ایک پارٹٰی پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں کم سے کم آٹھ جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

دمت کے مقام پر یہ گوریلا کارروائی اس وقت کی گئی جب حوثیوں باغی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں نے شہریوں کے گھروں اور عام آبادی والے علاقوں پر وحشیانہ گولہ باری کر رکھی تھی۔

دمت اور الرضمہ کے مقامات پر حوثی شدت پسندوں اور حکومت نواز فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔الضالع گورنری میں حوثیوں کو پسپا کرنے کے لیے ٹینک اور توپ خانہ بھی پہنچا دیا گیا ہے جن کی مدد سے باغیوں کو پسپا کیا جا رہا ہے

درایں اثناء سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں جاری آپریشن میں تعز کا محاصرہ توڑنے کے لیے حملے تیز کر دیے گئے ہیں۔ حکومتی فوج کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی کے ساتھ تازہ دم فوجی دستے بھی پہنچا دیے گئے ہیں اور توپ خانے اور ٹینکوں کے ذریعے شہر کا محاصرہ توڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حموتی فوج نے حملہ کر کے حوثیوں کی دو فوجی بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئی ہیں۔کارروائی میں تین حوثی باغی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ الضالع گورنری کے شمالی شہر دمت کے شمالی اور مشرقی محاذوں پر گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ شدت پسندوں کے خلاف بھاری توپ خانے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومتی فوجوں کو اتحادی ممالک کے طیاروں کی بھی معاونت حاصل ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمہ کے روز سے حوثی باغیوں کی جانب سے اِب گورنری میں مسلسل گولہ باری جاری ہے۔ باغیوں کی جانب سے توپ خانے کے ساتھ کاتیوشیا میزائلوں سے بھی حملے کیے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

یمن کے محاذ جنگ کی صورت حال پرغور کے لیے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے سعودی عرب کے شہر ریاض میں حکومت فورسز کی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں اور تعز سے باغیوں کو نکال باہر کرنے کے لیے لائحہ عمل پر غور کیا جا رہا ہے۔