.

ایران: سات سنی قیدیوں کو پھانسی دینے کی تیاری؟

اہل سنت مسلک کے سات قیدی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی حکام نے شمال مغربی شہر کرج میں قائم "رجائی شہر" نامی جیل میں قید کیے گئے اہل سنت مسلک کے سات کارکنوں کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ خدشہ ہے کہ انہیں پھانسی دے دی جائے گی۔

ایران کی فارسی نیوز ایجنسی"ہرانا" نے انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا بیان نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکام نے کرج شہر میں واقع "رجائی شہر" نامی جیل میں قید کیے سات کارکنوں کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ نامعلوم مقام پر لے جائے گئے کارکنوں کا تعلق اہل سنت مسلک سے بتایا جاتا ہے۔ خدشہ ہے کہ ایرانی حکام انہیں دی گئی سزائے موت پرعمل درآمد کرنا چاہتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے قیدیوں کی کسی نامعلوم مقام پر منتقلی سے متعلق خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی اور نہ ہی جیل حکام نے قیدیوں کی منتقلی کی کوئی وضاحت کی ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے گروپ نے ایرانی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ رجائی شہر جیل میں قید طالب ملکی ، بویا محمدی، کاوہ ویسی، کاوہ شریفی، محمدیاور رحیمی، ، بہمن رحیمی اور حیدر رشیدی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ تمام قیدی پہلے ایران کی "عنبر" نامی جیل میں قید تھے جہاں سے انہیں رجائی شہر جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ اس جیل میں اب بھی 200 سے زائد سنی مسلمان پابند سلاسل ہیں۔ ان کا تعلق سنی اکثریتی علاقوں کردستان، کرمانشاہ، آذربائیجان اور بلوچستان سے بتایا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق کچھ عرصہ قبل ایران کی ایک انقلاب عدالت کے جج محمد مقیسہ نے اہل سنت مسلک کے 20 کارکنوں کو سزائے موت سنائی تھی۔ ان بیس افراد میں نامعلوم مقام پر منتقل کیے گئے قیدی بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ ایران سیاسی اور مذہبی بنیاد پر حراست میں لیے گئے لوگوں کو اندھا دھند سزائے موت دینے میں بدنامی کی حد تک مشہور ہے۔ ایران میں اندھا دھند پھانسیوں پرانسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بار بار احتجاج کر چکی ہیں مگر تہران حکومت پر اس احتجاج کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔