.

روسی طیارہ حادثے کے لمحات کی ویڈیو منظرعام پرآ گئی

روسی خاندان کی شرم الشیخ روانگی سے قبل کی یادگار سلیفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند روز قبل مصر کے جزیرہ نما سینا میں حادثے کا شکار ہونے والے روسی مسافر بردار جہاز کے حادثے کے وقت کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے قاہرہ سے جہاز کی روانگی سے قبل کی مسافروں کی ایک تصویر بھی حاصل کی ہے جس میں مسافروں کو بدقسمت ہوائی جہاز کے اندر بیٹھے دکھایا گیا ہے۔

جزیرہ نما سینا میں طیارہ حادثے کے وقت کی فوٹیج ویڈیو شیرنگ ویب سائیٹ "یوٹیوب" اور LifeNews" پر پوسٹ کی گئی ہے جہاں سے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اسے ڈائون لوڈ کیا ہے۔ فوٹیج میں طیارے کو زمین پر گرنے بعد اس میں آگ لگنے کے ساتھ اس کے بکھرے ہوئے ٹکڑے دکھائے گئے ہیں۔

یہ فوٹیج طیارہ حادثے کے کوئی دو گھنٹے بعد موبائل فون کیمرے کی مدد سے بنائی گئی ہے۔ فوٹیج میں طیارے کا ملبہ اور اس سے اٹھنے والے دھوئیں کے علاوہ ریسکیو ٹیموں کو امدادی سرگرمیوں میں مصروف دکھایا گیا ہے۔

فوٹیج میں مسافروں کا دور دور تک بکھرا سامان بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی میتیں جہاز کے ملبے سے نکالنے میں مصروف ہیں۔ لائیف نیوز کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا یہ فوٹیج کیسے بنائی گئی تھی۔

آخؒری سفر کی آخری تصویر

گذشتہ ہفتے کے روز علی الصباح جزیرہ نما سینا میں گر کر تباہ ہونے والے روسی طیارے کے حادثے نے کئی افسردہ کہانیوں کو بھی جنم دیا۔ طیارے میں مارے جانے والے افراد کے بارے میں معلومات آہستہ آہستہ ذرائع ابلاغ میں آ رہی ہیں۔

بدقسمت طیارے کے مسافروں کی ایک تصوریر بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک خاندان کو طیارے میں بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مسافر طیارے میں روسی شہر سینٹ پیٹرسبرگ سے شرم الشیخ روانگی سے قبل "یوری شینا" نامی ایک شخص نے جہاز میں سوار ہونےکے بعد پوری فیملی کی سلیفی بنائی جسے اس نے اپنے اقارب کو بھیجا۔ تصویر میں یوری شینا، اس کی اہلیہ اور تین بچوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصویر روس سے روانگی سے قبل بنائی گئی تھی۔ انہوں نے اسی طیارے سے واپس آنا تھا۔ وہ دوبارہ اس میں سوار ہوئے مگر وہ تصویر ان کی زندگی کی آخری تصویر اور آخری سفر ثابت ہوا۔

روسی ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات سے پتا چلا ہے کہ ہوائی جہاز کے مسافروں نے دو طرفہ ٹکٹس لے رکھی تھیں۔ وہ مصر اسی طیارے سے آئے اور اسی پر انہیں سیٹوں پر دوبارہ بیٹھ کر واپس جا رہے تھے۔ بہ ظاہر ایسے لگ رہا ہے کہ طیارے کی عقبی نشستوں پر بیٹھنے والے مسافر زور دار دھماکے سے متاثر ہوئے، کیونکہ ان کے جسم سامنے کی طرف سے جھلسے ہوئے تھے۔ ان کے سینوں اور چہروں پر جلن کے واضح نشان ہیں۔ بیشتر میتوں کا دھڑ بری طرح کچلا گیا ہے۔

تاہم تفتیش کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہاز کے ملبے سے صرف 20 سے 25 لاشیں ایسی ملی ہیں جو جلی ہوئی ہیں اور ان کے جسموں کی ہڈیاں چور ہو چکی ہیں۔یہ سب کچھ طیارے کی نہایت بلندی سے گرنے کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔ طیارے کے حادثے کے مقام پر لوہے کے ایسے ڈھانچے بھی پائے گئے ہیں جن کا جہاز کے کسی اندرونی یا بیرونی حصے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تحقیقات کے لیے انہیں بھی لیبارٹری میں منتقل کر دیا گیا ہے۔