.

عراق: طوفانی بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے 58 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں گذشتہ ہفتے کے دوران طوفانی بارشوں اور سیلاب کے دوران برقی جھٹکوں سے اٹھاون افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

عراق کی وزارتِ صحت کے ترجمان احمد الرضینی نے ایک بیان میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ کئی روز تک مسلسل بارشوں سے نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا تھا جس سے بغداد اور ملک کے دوسرے علاقوں میں سیلاب آگیا۔بعض علاقوں میں بارشیں رکنے کے باوجود ابھی تک پانی کھڑا ہے۔

سیلاب سے بجلی کی ترسیل کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور اس سے شہریوں کے لیے جانی خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں پانی میں برقی کرنٹ آنے سے مارے گئے لوگوں کی لاشیں پڑی دیکھی جاسکتی ہیں۔

عراق کے مختلف علاقوں میں جمعرات کو بھی بارش ہوئی تھی جس کے بعد وزارتِ بجلی نے شہریوں کے لیے انتباہ جاری کیا تھا اورانھیں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ برقی رو کی ترسیل کے نظام یعنی تاروں ،کھمبوں اور ٹرانسفارمروں سے دور رہیں۔

عراقی حکومت طلب کے مطابق شہری آبادی کو بجلی مہیا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے جس کی وجہ سے نجی شعبے کے زیرانتظام جنریٹروں کے ذریعے شہریوں کو بجلی مہیا کی جاتی ہے۔دارالحکومت بغداد اور دوسرے شہروں میں بجلی کے تار مکڑی کے جالے کی طرح بازاروں اور سڑکوں میں بکھرے پڑے نظر آتے ہیں۔ان کے ذریعے مکانوں کو ایک دوسرے سے منسلک کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ موسم گرما میں بجلی کی گھنٹوں عدم دستیابی کے خلاف عراقیوں نے کئی روز تک ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے جس کے بعد وزیراعظم حیدرالعبادی نے ملک میں اصلاحات کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک ان اصلاحات کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے ہیں اور وہ بدستور بجلی اور دوسری بنیادی خدمات کی عدم دستیابی پر شکایت کناں ہیں۔