.

شرم الشیخ ہوائی اڈے پر سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی

اہلکار موبائل فون میں مگن، سگریٹ نوشی یا سوتے پائے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی ذرائع ابلاغ نے روس کا مسافر طیارہ کریش ہونے کے واقعے کے بعد عالمی میڈیا کی سرخیوں کا موضوع بننے والے مصر کے شرم الشیخ ہوائی اڈے پر سیکیورٹی حکام کی بعض کمزوریوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ سیکیورٹی خامیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب شرم الشیخ سے واپس آنے والے سیاحوں اور دیگر مسافروں کو ہوائی اڈے پر سنگین مشکلات سے گذرنا پڑ رہا ہے۔

برطانوی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں بعض ایسی خامیوں کی نشاندہی کی ہے جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ہوائی اڈے کے سیکیورٹی حکام چوکنے نہیں بلکہ لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ڈیوٹی کے دوران بعض سیکیورٹی اہلکاروں کو موبائل فون میں مگن، سیگریٹ نوشی کرتے اور کچھ کو تو سوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

برطانوی اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ شرم الشیخ ہوائی اڈے کے بعض اہلکار رشوت خوری میں بھی ملوث ہیں۔ سفری بیگوں کی باری بینی سے تلاشی لینے کے بجائے اہلکار پیسوں کے عوض سرسری چیک اپ کے بعد انہیں آگے جانے دیتے ہیں جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو اپنی سازشوں کو آگے بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی حکام بہت سے لوگوں کو ہوائی اڈے کے اندر جانے سے نہیں روکتے۔ بعض لوگ پلاسٹک کے بڑے بڑے بیگوں میں سامان اٹھائے بغیر کسی رکاوٹ کے ہوائی اڈے میں اندر جا رہے ہوتے ہیں۔

اخبار 'ڈیلی میل' نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ شرم الشیخ ہوائی اڈے کے سیکیورٹی اہلکار جس طرح کی لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ روسی ہوائی جہاز دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنا ہے۔

یہ امکان موجود ہے کہ کریش ہونے والے ہوائی جہاز کے کسی مسافر کےسامان میں کسی دہشت گرد نے بم رکھ دیا ہو۔