.

"مرسی سیناء کا وسیع رقبہ غزہ میں ضم کرنے کو تیار تھے"

ابو مازن نے نیا پنڈروہ بکس کھول دیا، حماس۔اسرائیل مذاکرات کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے دورہ مصر کے دوران بعض چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مُرسی کے دور حکومت میں جزیرہ نما سیناء کا 1000 کلومیٹر رقبہ غزہ کی پٹی میں شامل کرنے کی پیشکش کی گئی تھی مگر فلسطینی اتھارٹی نے یہ پیش کش ٹھکرا دی تھی۔

محمود عباس نے قاہرہ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معزول صدر محمد مرسی نے اپنے دور حکومت میں غزہ کی توسیع کے لیے جزیرہ نما سیناء کا ایک ہزار کلومیٹر کا علاقہ دینے کی پیش کی تھی مگرانہوں نے یہ پیشکش مسترد کر دی تھی۔ صدر عباس کا کہنا تھا کہ میں نے صدر مرسی کی پیشکش کے جواب میں کہا تھا کہ 'مجھے مصر کی ایک انچ زمین بھی نہیں چاہیے۔'

اس پر انہوں نے سخت انداز میں مصری لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ "آپ اس علاقے کے مالک ہیں۔ غزہ کی پٹی کی توسیع کے لیے آپ یہ علاقہ لے لیں"۔ صدر عباس نے الزام عاید کیا کہ جزیرہ نما سینا کے وسیع رقبے کو غزہ کی پٹی میں شامل کرنے کی تجویز پر حماس راضی تھی۔ تاہم اس وقت کے مصری وزیر دفاع [موجودہ صدر] فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے اس منصوبے پر کام روک دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جزیرہ سیناء کے حوالے سے حماس اور اسرائیل کے درمیان اب بھی براہ راست بات چیت جاری ہے۔

صدر ابو مازن نے دعویٰ کیا کہ حماس اور اسرائیل کےدرمیان براہ راست اور بالواسطہ بات چیت کی باتیں افواہیں نہیں بلکہ حقیقت ہیں۔ مجھے حماس کے مذاکرات کاروں کے ناموں کا بھی علم ہے اور یہ بھی پتا ہے کہ فریقین میں کب اور کہاں کہاں بات چیت ہوتی رہی ہے۔ بالواسطہ بات چیت سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ذریعے ہوتی رہی ہے۔

درایں اثناء فلسطینی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صدر محمود عباس اور ان کی جماعت 'فتح' کے ایک منحرف لیڈر محمد دحلان کے درمیان بھی مفاہمتی مساعی جاری ہیں۔ جب صدر عباس قاہرہ پہنچے تو دحلان بھی بیرون ملک سے واپس مصر پہنچ گئے۔ گو کہ دونوں کے درمیان عرصے سے براہ راست ملاقات نہیں ہوئی۔ مگر دونوں کی ایک ہی وقت میں قاہرہ میں موجودگی سے ان خبروں کو تقویت ملی ہے کہ صدر عباس باغی رہ نما کو گلے لگانے کو تیار ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس نے دحلان کے ساتھ مصالحت کے امکان کو رد نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں دحلان کی عرب ملکوں میں آمد ورفت اور فلسطینی اتھارٹی کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی پر بعض تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی پارلیمنٹ کے ایک رکن کی حیثیت سے محمد دحلان رام اللہ واپس آ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ محمد دحلان اور صدر محمود عباس کے درمیان سخت اختلافات ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کی ماتحت عدالتوں نے دحلان کو بدعنوانی اور باغیانہ روش اپنانے سمیت کئی مقدمات میں اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔