.

اسرائیل، ایران کا ہمنوا: امریکا بشار کے لئے ضمانت دے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے یکے بعد دیگرے 'العربیہ' کو اس امر کی تصدیق کی ہے کہ امریکا-اسرائیل سربراہی ملاقات میں زیادہ وقت شام کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات میں نیتن یاہو نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ شام کی موجودہ حکومت کو شامی بحران کے ممکنہ حل کے لئے ہونے والے کسی بھی معاہدے میں نمائندگی دی جائے۔

'العربیہ' کو اپنے ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر سے کہا ہے کہ وہ شامی بحران کے عبوری حل پر اتفاق کی صورت میں امریکا، ایران اور روس کے درمیان کوارڈی نیشن کی شرط ضرور رکھیں تاکہ اس بات کا تعین کرنے میں مدد ملے کہ ایران عبوری مرحلے سے پہلے یا اس کے دوران کتنا اسلحہ شام بھیجتا ہے۔

اسرائیل کا النصرہ سے روابط کا اعتراف

مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے شامی سرحدی علاقے گولان میں سرگرم النصرہ محاذ اور اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کے درمیان خصوصی تعلقات کی ماہیت سے متعلق استفسار پر اسرائیل نے وضاحت دیتے ہوئے کہ کہا شام کے سرحدی علاقے میں ہمارے علاقے النصرہ محاذ کے ذیلی گروپوں سے تعلقات موجود ہیں اور ملاقات میں نیتن یاہو نے ان روابط کا مکمل دفاع کرتے ہوئے کہا کہ
یہ اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت ہیں، اس کا مقصد النصرہ محاذ کی صلاحیت میں بہتری لانا نہیں ہے۔

امریکی صدر کی منظوری سے اسرائیلی وزیر اعظم، امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے منگل کے روز ملاقات کریں گے تاکہ وہ امریکا کے اعلی سفارتکار کو شام سے متعلق ویانا مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے پہلے اسرائیلی نقطہ نظر سے آگاہ کر سکیں۔