.

لاطینی امریکا سے عرب تعلقات سے ایران 'نکو' بن گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے 'العربیہ' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی امریکا کے ملکوں نے ہمیشہ عرب ایشوز پر ہماری حمایت کی ہے۔ ایران ان ملکوں کے ساتھ روابط بڑھا کر اپنے بین الاقوامی نقطہ نظر کی ترویج چاہتا ہے کیونکہ اب دنیا میں ان کے زیادہ دوست باقی نہیں رہے۔

دارلحکومت ریاض میں عرب ملکوں اور لاطینی امیرکا کے سربراہی اجلاس کے موقع پر پین عرب نیوز چینل 'العربیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا جنوبی امریکا کے ملکوں کی عرب ریاستوں سے قرابت سے ایران کی دنیا میں تنہائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران 'کمزور' ہو رہا ہے، اس کے دوست باقی نہیں رہے، یہ ہر ملک سے راہ ورسم پیدا کرنے کی کوشش میں ہے۔

بحرینی وزیر خارجہ خالد آل خلیفہ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ عرب معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'تہران، اگر عرب دنیا سے اچھے تعلقات چاہتا ہے تو اسے ان کے معاملات میں مداخلت سے باز رہنا ہو گا۔ انہوں نے عرب ملکوں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عرب امور میں ایرانی مداخلت کی راہ روکیں۔ یہ کام سعودی عرب کے فرمانروا کی قیادت میں روبعمل لایا جا سکتا ہے۔

سمٹ میں شریک فسلطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے بھی اس موقع پر 'العربیہ' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عرب اور لاطینی امریکا کے سربراہی اجلاس میں شریک نمائندوں کو فلسطینی کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں شریک وزراء نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں مسئلہ فلسطین کے حل کی متعدد کوششیں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے، ان میں یو این سیکیورٹی کونسل سے رجوع بھی شامل کیا ہے تاکہ فلسطینیوں کو بین الاقوامی تحفظ دلوایا جا سکے۔