.

مصر میں شیعہ ازم کا فروغ، بیرونی فنڈنگ کا انکشاف

ناموس صحابہ 'رضی اللہ عنھم' کا دفاع علماء پر فرض ہے: شیخ الازھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک میں اہل سنت مسلک کے نوجوانوں کو شیعہ مسلک کی طرف مائل کرنے اور مصر میں شیعہ ازم کی تبلیغ کے لیے بیرون ملک سے فنڈز فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں شیخ الازھر نے کہا کہ ہم نے متعدد مرتبہ بیرون ملک سے ہونے والی متنازع فنڈنگ پر اعتراض کیا۔ ایک سنی اکثریتی ملک میں اس نوعیت کے فنڈ فتنہ و فساد کو فروغ دینے اور خون خرابے کا موجب بن سکتے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جامع الازھر نے نفرت، فرقہ پرستی اور دیگر سماجی اور معاشرتی برائیوں کا موجب بننے والی غیرملکی رقومات کے خلاف آواز بلند کی مگر اس پر کھل کر بات اس لیے نہ کی جا سکی کہ یہ ملک میں خون خرابے کا باعث بن سکتی تھی۔

جامعہ الازھر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ناموس صحابہ کے دفاع کا بیڑا ہم نے آج نہیں اٹھایا اور نہ ہی یہ کوئی وقتی پالیسی ہے بلکہ آج کے دور میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع فرض عین ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سازشی ذہن رکھنے والے تخریب کار عناصر ملک میں فرقہ واریت کے فروغ کے لیے شیعہ اور سنی مسلک کے نوجوانوں میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صحابہ کرام اور بزرگان دین کی بنیاد پر لوگوں کو آپس میں دست و گریباں کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں اور ان سازشوں میں غیرملکی ادارے اور تنظیمیں ملوث ہیں ۔

ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا کہ اس وقت مصر کے گلی کوچوں میں شیعہ مسلک کی تبلیغ کے عام چرچے ہو رہے ہیں۔ آج اگر خطے کے علماء نے اپنی ذمہ داریاں انجام نہ دیں تو انہیں کل قیامت کو جواب دینا ہو گا۔ آج اگر کسی گروپ کی وجہ سے ملک میں فتنہ برپا ہوتا اور خون خرابہ ہوتا ہے تو اسے روکنا حکومت وقت کے ساتھ ساتھ علماء دین کی بھی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال رمضان میں ہم نے مصر کے تمام سنی اور شیعہ مسلک کے جید علماء پر مشتمل ایک فورم تشکیل دیا تھا۔ اس فورم نے اہل تشیع اور اہل سنت مسلک کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قتل سے سختی منع کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے ہمیں اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔