.

اسد نواز شیعہ ملیشیا داعش کی راہ پر چل نکلی

نامعلوم شامی شہری کی لاش جلانے پر ایک دوسرے کو مبارکباد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد کی حمایت میں لڑنے والی عراقی شیعہ ملیشیا 'حزب اللہ النجباء' نے حلب کے نواح میں ایک شامی شہری کی جلتی ہوئی نعش کی ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایران نواز ملیشیا نے غیر انسانی کارروائی بدلا لینے اور تفنن طبع کے لئے کی۔

یاد رہے کہ 'حزب اللہ النجباء' عراقی شیعہ گروپ ہے جسے عراق میں داعش کے خلاف سرگرم 'الحشد الشعبی' ملیشیا کے ساتھ ملکر لڑنے کے لئے ایران سے براہ راست امداد ملتی ہے۔ اس کے بعض جنگجو بشار الاسد کو بچانے کے لئے شام میں 'داد شجاعت' دینے آئے ہیں۔ یہ گروپ حلب، ادلب کے مضافات، درعا، القنیطرہ، دمشق اور اس کے مضافات میں ہوںے والی لڑائی میں شریک ہے۔ 'حزب اللہ النجباء' شام میں میں پہلا، سب سے بڑا اور طاقتور شیعہ ملیشیا نیٹ ورک سمجھا جاتا ہے۔

ویڈیو اور اس کے جلو میں آنے والی آوازیں سن کر معلوم ہوتا ہے کہ نامعلوم شامی شہری کو زندہ جلانے کے عمل کے دوران ملیشیا کے اہلکار مبارکباد اور کا تبادلہ کرتے رہے۔ نعش کو جلتا دیکھ کر ملیشیا کے اہلکار ایک دوسرے سے مزاق بھی کرتے رہے ہیں۔

شامی شہری کو آگ لگانے والے افراد کو اپنی سیاسی اور فرقہ وارنہ شناخت کے ظاہر ہونے کا کوئی غم نہیں کیونکہ 'حزب اللہ النجباء' کی تحریر ان کی وردیوں پر نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

حزب اللہ النجباء ملیشیا کے اہلکار شام میں لاشوں کی بے حرمتی کے لئے بدنام ہیں۔ ان کے متعدد افراد شامیوں کی لاشوں کو سڑکوں پر گھیسٹنے والی تصاویر بذات خود سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

اکرم الکعبی اور ایران

حزب اللہ النجباء کے میڈیا سیل کے مطابق تنظیم کی قیادت 'اکرم الکعبی' کرتے ہیں۔ ایرانی گارڈین کونسل کے رکن 'عباس الکعبی' نے گذشتہ مہینے اکرم الکعبی کی جنگی کوششوں کے اعتراف میں انہیں اعزازی شلیڈ عطا کی تھی۔

اکرم الکعبی صدام حسین کے دور میں عراقی جیل اور بعد ازاں امریکی حراستی مراکز میں قید رہے۔ ان کا نام ایرانی پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کے رہنماؤں کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے 'جیش المھدی' اور 'عصائب اہل الحق' جیسی تنظیموں کی بھی قیادت کی۔ شام میں ان کا نام النجباء ملیشیا کی قیادت کے بعد میڈیا کہ شہ سرخیوں میں آنا شروع ہوا۔

النجباء ملیشیا ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہدایت پر حلب کی لڑائی میں شرکت کے لئے عراق سے شام آئی۔