.

اسرائیلی فلسطینی بچوں کو کیسے ہراساں کرتے ہیں: ویڈیو دیکھیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی افواج جہاں بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کرتے ہوئے کم سن فلسطینی بچوں کو گرفتار کرتی ہے وہیں حراست میں لیے گئے نونہالوں کو وحشیانہ جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی حربوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال 13 سالہ احمد مناصرہ کی ہے جسے زخمی کرنے بعد اسرائیلی فوجیوں نے حراست میں لیا۔ دوران حراست ایک اہلکار مناصرہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ وہ یہودی آباد کاروں پر چاقو سے حملے کا اعتراف کرے مگر خوف کا شکار بچہ روتے ہوئے مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے کسی یہودی آباد کار پر چاقو سے حملہ نہیں کیا۔ وہ کیوں کر یہودی آباد کاروں پر چاقو حملے کا اعتراف کرے مگر وحشی صفت صہیونی اہلکار اسے مسلسل زدو کوب کیے جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ فوٹیج" فلسطین الیوم" ٹی وی پر نشر کی گئی ہے جس میں ایک حراستی مرکز کے اندر احمد مناصرہ اور اس کے گرد بیٹھے تین فوجی تفتیش کاروں کو دکھایا گیاہے جو باری باری مناصرہ سے پوچھ گچھ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے کہتے ہیں کہ وہ یہودی آبادکاروں پر چاقو سے حملے کا اعتراف کرے۔

خیال رہے کہ احمد مناصرہ اور اس کے چچاز زاد حسن مناصرہ کو دو اکتوبر بیت المقدس میں 'بسغات زئیف' یہودی کالونی کے قریب سے اسرائیلی فوجیوں نے گولیاں مار کر زخمی کر دیا تھا۔ گولیاں لگنے سے حسن جام شہادت نوش کرگیا مگر احمد کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اسپتال میں علاج مکمل ہونے سے قبل ہی اسرائیلی فوجی اسے اٹھا کر جیل لے گئے تھے جہاں اس پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں ںے دونوں پر یہودی آباد کاروں پر چاقو سے حملے کا الزام عاید کیا ہے مگر احمد نے صہیونی فوجیوں کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ ویڈٰیو میں یہودی تفتیش کار کو ہاتھ میں ایک چاقو اٹھائے دکھایا گیا ہے اور وہ بچے کو مسلسل زدو کوب کرتے ہوئے اسے خوف زدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

احمد مناصرہ کا تفتیش کاروں کو کہنا ہے کہ وہ جس جگہ یہودیوں کو چاقو سے حملے کا نشانہ بنانے کا الزام عاید کررہے ہیں اس سڑک پربھی نہیں گئے۔

احمد مناصرہ اس حوالے سے خوش نصیب ہیں کہ اس سے پوچھ گچھ کے چند لمحات کی فوٹیج منظرعام پر آ گئی ورنہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر مظالم کے کیسے کیسے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ اس کے بارے میں کسی کوئی پتا نہیں۔

اسرائیلی جیلوں میں اس وقت بھی 300 سے زیادہ بچے پابند سلاسل ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی تنقید کے باوجود صہیونی فوج کم عمر بچوں کی گرفتاریوں، انہیں جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنانے اور عدالتوں میں گھسیٹنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔