.

علی صالح حکومت کے حامی پارٹی رہ نمائوں کے خلاف سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں تیس سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد خلیجی ممالک کے دبائو پر حکومت چھوڑنے والے سابق صدر علی عبداللہ صالح اپنی جماعت پیپلز کانگریس کے آئینی حکومت کے حامی رہ نمائوں کو نشانہ بنانے کی سازشیں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق صدرعلی عبداللہ صالح نے سنہ 2011ء میں خلیجی فارمولے کے تحت اقتدار سے علاحدگی سے قبل بھی اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی روش اپنائے رکھی۔ پارٹی کے اندر کسی رہ نماء کو صدر صالح کے خلاف کوئی بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور کوئی ایسی جسارت کر بیٹھتا تو اسے فوری طور پر جاعت سےنکال باہر کیا جاتا۔ تین عشروں تک انہوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہرگام پر اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ انتقام بنائے رکھا۔ بعض اوقات علی صالح کی ہوس اقتدار اس حد تک بڑھ گئی کہ وہ اپنے قریبی ساتھیوں کو شبے کی بنیاد پر پارٹی سے نکالنے لگے۔

ایک ماہ قبل جنرل پیپلز کانگریس نے کھل کر ملک میں آئینی حکومت کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے منحرف صدر علی عبداللہ صالح کو پارٹی سے نکال باہر کیا۔ علی عبداللہ صالح کو جماعت سے بے دخل کرنے میں سر فہرست پارٹی کے نائب صدر ڈاکٹر عبدالکریم الریانی، ڈاکٹر احمد عبید بن دغر میجر جنرل ڈاکٹر رشاد العلیمی اور قبائلی لیڈر محمد بن ناجی الشائف پیش پیش تھے۔ ان چاروں رہ نمائوں کو علی عبداللہ صالح نے کچھ عرصہ قبل آئینی حکومت کی حمایت کی پاداش میں پارٹی سے نکال باہر کیا تھا۔

تعز اور اِب گورنریوں پر مشتمل یمن کے الجند صوبے کی پارٹی قیات سے بھی علی صالح کو سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ علی صالح نے الجند صوبے سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہ نمائوں میں پھوٹ ڈالنے اور انہیں خود سے دور رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

دو روز قبل الجند صوبے کے ایک بزرگ رہ نما ڈاکٹر عبدالکریم الاریانی جرمنی کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئے۔ علی صالح نے ان کے انتقال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر پارٹی کے بعض دوسرے رہ نمائوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ بہ ظاہر اپنی ہمدردیاں جتانے کے لیے علی صالح نے تعز میں ہونے والی تعزیتی تقریب میں شرکت کے ساتھ مرحوم کے اہل خانہ کو طویل تعزیتی پیغام بھی ارسال کیا ہے۔

یمن سے شائع ہونے والے اخبار"یمن الیوم" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح نے میجر جنرل ریٹائرڈ رشاد العلیمی پر سخت الزامات عاید کرتے ہوئے انہیں آئینی حکومت کی حمایت پر برا بھلا کہا ہے۔ علی صالح نے العلیمی کو موجودہ واقعات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مخالفین کا ٹائوٹ قرار دیا۔ انہوں نے الزم عاید کیا کی رشاد العلیمی یمن میں فوجی کارروائی کرنے والوں کو اہم اہداف کے نقشے فراہم کر رہے ہیں۔

تجزیہ نگار محمد ناجی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی عبداللہ صالح تعز اور دوسرے شہروں کی نیشنل کانگریس کی قیادت سے سخت مایوس ہیں کیونکہ وہاں کی بیشتر پارٹی رہ نما آئینی حکومت کی بحالی کے حامی ہیں۔ علی صالح اشتعال انگیزی کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین پر بددیانتی کا الزام عاید کر کے اب اور دوسرے علاقوں کے پارٹی کارکنوں کی ہمدردیاں سیمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔