.

اسرائیلی فوجیوں کی اسپتال میں کارروائی ،ایک فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجیوں نےغربِ اردن کے شہر الخلیل میں ایک اسپتال میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایک فلسطینی کو فائرنگ کر کے شہید کردیا ہے اور ایک کو گرفتار کر دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں اس کارروائی کی تصدیق کی ہے لیکن فلسطینی کی حالت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ستائیس سالہ فلسطینی عزام الشلالدہ کی گرفتاری کے لیے یہ کارروائی کی تھی۔وہ دو ہفتے قبل غربِ اردن میں ایک یہودی آباد کار کو چاقو گھونپنے کے الزام میں مطلوب تھا اور اس یہودی کی جوابی فائرنگ سے زخمی ہونے کے باوجود بھاگ جانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

الخلیل کے الاہلی اسپتال کے ڈائریکٹر جہاد شوار نے فلسطینی ریڈیو کو بتایا ہے کہ جمعرات کو علی الصباح تین بجے کے قریب بیس سے تیس افراد دو منی ویگنوں میں سوار ہو کر آئے تھے۔وہ ایک وہیل چئیر کے ساتھ اسپتال میں داخل ہوئے تھے اور انھوں نے یہ ڈھونگ رچایا کہ ان کے ساتھ ایک حاملہ خاتون ہے۔

اسپتال کے کلوز سرکٹ کیمروں کی فوٹیج میں بھی پستولوں اور بندوقوں سے مسلح ان اہلکاروں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ان میں سے بعض کی ڈاڑھیاں تھیں اور بعض نے سر پر عربی کفایا اوڑھ رکھے تھے۔وہ اسپتالوں کی راہداریوں میں چلتے ہوئے عملے سے کہہ رہے تھے کہ ان کے لیے راستہ چھوڑ دیا جائے۔

ڈائریکٹر شوار نے بتایا ہے کہ ان مسلح افراد نے اسپتال کے عملے کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنا لیا اورعزام الشلالدہ کے کمرے پر دھاوا بول دیا۔اس کمرے میں شلالدہ کا بھائی بلال سو رہا تھا۔اس کو اسرائیلی فوجیوں نے بیڈ پر رسی کے ساتھ باندھ دیا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ جونہی کمرے سے ملحقہ باتھ روم سے بلال کا کزن عبداللہ نکلا تو اسرائیلی فوجیوں نے اس پر فائرنگ کردی اور اس کو وہیں پانچ گولیاں مار کر شہید کردیا۔بلال نے بھی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اس طرح واقعہ بیان کیا ہے اور کہا ہے اسرائیلی خفیہ اہلکار عبداللہ کو گولیاں مارنے کے بعد ان کے بھائی عزام کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

وہ عزام کو اسی وہیل چئیر پر ڈال کر چلتے بنے جس پر وہ مبینہ حاملہ عورت کو لائے تھے اور انھوں نے اسپتال کے عملے کو دھمکی دی تھی کہ گولیوں سے زخمی شخص کو کوئی طبی امداد نہ دی جائے۔

فلسطین کے وزیر صحت جواد عواد نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز پر عبداللہ الشلالدہ کو ظالمانہ انداز میں شہید کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی ہلاکتوں کی مشین سے فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے مداخلت کرے۔

اسرائیل کی داخلی سکیورٹی کی ذمے دار ایجنسی شین بیت نے اس واقعے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کسی حملہ آور کو کسی جگہ پناہ نہیں لینے دے گی۔واضح رہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے خصوصی دستے اسی انداز میں عربوں جیسا روپ دھار کر فلسطینی مزاحمت کاروں کی پکڑ دھکڑ کے لیے کارروائیاں کرتے رہتے ہیں لیکن یہ ایک منفرد واقعہ ہے کہ انھیں اسپتال میں داخلے کے لیے مبینہ حاملہ عورت بھی ساتھ لانا پڑی ہے۔