.

شامی فوج کا باغیوں کے زیرقبضہ قصبے پر دوبارہ کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے شمالی صوبے حلب میں واقع ایک قصبے الحاضر پر باغیوں سے لڑائی کے بعد دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ حکومت نواز فورسز نے حلب شہر کے جنوب میں واقع قصبے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہاں سے باغی جنگجو جانیں بچا کر بھاگ گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ الحاضر حلب کے جنوب میں واقع دیہی علاقے میں باغی جنگجوؤں کا ایک اہم مرکز تھا۔شامی فوج نے لبنانی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ مل کر گذشتہ ماہ اس قصبے اور دوسرے نواحی علاقوں کو واپس لینے کے لیے حملے کا آغاز کیا تھا اور اس کو روسی فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی۔

شامی آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس قصبے پر قبضے کے بعد شامی فوج باغیوں کے محاصرے میں شیعہ آبادی والے دو قصبوں کفرایا اور الفوعا کی جانب پیش قدمی کرسکے گی۔

کفرایا اور الفوعا میں باغیوں اور شامی فوج کے درمیان ستمبر کے آخر میں جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت ان دونوں قصبوں سے شیعہ آبادی کو انخلاء کی اجازت دی گئی تھی جبکہ اس کے جواب میں لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے الزبدانی میں محصور باغی جنگجوؤں کو انخلاء کے لیے شامی فوج محفوظ راستہ دیا تھا۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ اب شامی فوج کا اگلا ہدف الحاضر سے مغرب میں واقع قصبہ طلعت العیس ہوسکتا ہے۔اس قصبے پر بھی باغیوں نے قبضہ کررکھا ہے اور شامی فوج اور روس کے لڑاکا طیاروں نے اس قصبے پر گذشتہ ایک ہفتے کے دوران تباہ کن بمباری کی ہے۔اگر طلعت العیس پر بھی شامی فوج کا قبضہ ہوجاتا ہے تو پھر وہ حلب کو شمال مغربی صوبے ادلب سے ملانے والی شاہراہ پر بھی کنٹرول حاصل کر لے گی اور اس طرح باغیوں کے لیے سامان رسد پہنچانے کے راستے مسدود ہوجائیں گے۔

اس علاقے میں شامی فوج کے خلاف جنگ آزما ایک باغی گروپ احرارالشام کے کمانڈر یوسف العیسیٰ کا کہناہے کہ ''الحاضر اور اس کے نواحی علاقوں پر شدید فضائی بمباری کے بعد ہمارے لیے پسپائی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا لیکن یہ ہار اور جیت کی لڑائی ہے۔اگر ہم کسی جگہ ایک دن جیتتے ہیں تو اگلے روز وہیں ہار بھی جاتے ہیں''۔

واضح رہے کہ حلب میں 2012ء سے باغیوں اور شامی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔اس دوران اس شہر کی بیشتر عمارتیں تباہ وبرباد ہوچکی ہیں اور اس وقت یہ شہر دو حصوں میں منقسم ہے۔ شہر کے مغربی حصے پر سرکاری فوج کا قبضہ ہے اور مشرقی حصے پر باغی گروپ قابض ہیں۔