.

اسرائیلی عدالت نے فلسطینیوں کے گھر گرانے کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے ہلاکت خیز یہود مخالف حملوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں پانچ فلسطینیوں کے گھر مسمار کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس امر کا اعلان اسرائیلی وزارت انصاف نے جمعہ کے روز کیا ہے۔

عدالت نے جن گھروں کو گرانے کی منظوری دی ہے ان میں تین مغربی کنارے کے شہر نابلس میں واقع ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ گھر ان فلسطینیوں کے ہیں جنہوں نے یکم اکتوبر کو ایک یہودی آبادکار جوڑے کو ان کے بچوں کے سامنے گولی مار کر ہلاک کیا جس کے بعد تشدد کی لہر کا آغاز ہو گیا جو بعد میں اسرائیل میں ضم کئے گئے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقوں تک پھیل گئی۔

دوسرے دو مکانات بھی مغربی کنارے کے شہر رام اللہ اور قلندیہ کے مہاجر کیمپ میں واقع ہیں۔ یہ ان فلسطینیوں کے بتائے جاتے ہیں جو مبینہ طور پر اسی سال جون میں اسرائیلوں کے قتل میں ملوث پائے گئے۔

بائیس اکتوبر کو عدالت عظمیٰ نے اسرائیلی فوج کی جانب سے متعدد گھر گرانے کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد معطل کر دیا تھا۔ ان میں متذکرہ بالا پانچوں مکانات بھی شامل تھے، جنہیں حالیہ فیصلے میں گرانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں گھر گرانے کے اقدام کو 'غیر متناسب' ردعمل قرار دیتے ہوئے اسے تمام خاندان کے لئے مشکلات کا باعث قرار دیتی ہیں، تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اسے فلسطینیوں کے حملے روکنے کا ایک مؤثر ہتھیار سمجھتے ہیں۔