.

امریکا کے حامی شامی باغیوں کا الحسکہ کے قصبے پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے حمایت یافتہ شامی باغیوں کے اتحاد نے شام کے صوبے الحسکہ میں عراق کی سرحد کے نزدیک واقع ایک قصبے الحول پر قبضہ کر لیا ہے۔اس قصبے پر پہلے دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کا قبضہ تھا۔

اس اتحاد میں شامل کرد جنگجوؤں کے ایک ترجمان ردور ژلیل نے جمعہ کو بتایا ہے کہ داعش کے جنگجو اس قصبے سے راہِ فرار اختیار کر گئے ہیں۔ادھر شمالی صوبے حلب میں شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے ایک گاؤں تل ہادیہ کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے جمعہ کو اس جنگی کامیابی کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ وہاں سے باغی جنگجو پسپا ہوگئے ہیں۔

شامی فوج نے حالیہ دنوں میں روس کی فضائی مدد سے حلب میں باغی گروپوں کے خلاف لڑائی میں متعدد فتوحات حاصل کی ہیں اور اس گاؤں پر قبضے کے بعد شامی فوجی اور ان کے اتحادی جنگجو علاقے میں مختلف شہروں کو ملانے والی ایک مرکزی شاہراہ کے نزدیک پہنچ گئے ہیں۔

اس علاقے پر شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کا قبضہ ہے اور اس نے شامی فوج کی میدان جنگ میں پیش قدمی کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے تل ہادیہ پر اسدی فوج کے دوبارہ قبضے کی خبر نشر کی ہے اور برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی فوج حلب کے جنوبی علاقے میں بڑی تیز رفتاری سے پیش قدمی کررہی ہے۔

شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے جمعرات کو حلب میں واقع ایک قصبے الحاضر پر باغیوں سے لڑائی کے بعد دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔الحاضر حلب کے جنوب میں واقع دیہی علاقے میں باغی جنگجوؤں کا ایک اہم مرکز تھا۔

شامی فوج نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور ایران سے آنے والے جنگجوؤں کے ساتھ مل کر گذشتہ ماہ اس قصبے اور دوسرے نواحی علاقوں کو واپس لینے کے لیے حملے کا آغاز کیا تھا اور اس کو روسی فضائیہ کی مدد بھی حاصل ہے۔روس کے لڑاکا طیارے 30 ستمبر سے شام کے شمالی علاقوں میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف جنگ آزما باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کررہے ہیں۔