.

تعلقات کی بحالی سے قبل امریکا معافی مانگے: روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے بعد امریکا کے ساتھ تعلقات کے قیام کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ سمجھوتے کے نتیجے میں دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے ہاں سفارت خانے کھولنے کا موقع ملا ہے مگر تہران میں سفارت خانہ کھولنے سے قبل امریکا کو ایران سے معافی مانگنا ہو گی۔

خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات سنہ 1979ء کے ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد اس وقت ختم ہو گئے تھے جب ایرانی طلباء نے تہران میں امریکی سفارت خانے کا گھیرائو کرنے کے بعد ایک سال سے زائد عرصے تک سفارتی عملے کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ اس کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے سے سفارتی تعلقات ختم کر دیے تھے۔

رواں سال جولائی میں چھ بڑی عالمی طاقتوں اور تہران کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے بعد ایران نے جوہری سرگرمیاں محدود کرنے اور عالمی طاقتوں نے اس پرعاید پابندیوں میں نرمی کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

ہنگامی حالت میں توسیع

درایں اثناء امریکی صدر باراک اوباما نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایران پر عاید پابندیوں کو برقرار رکھنے کے لیے تہران پر عاید ہنگامی حالت میں مزید ایک سال کی توسیع کر سکتے ہیں۔ انقلاب ایران کے بعد آٹھ بار ایران پرپابندیوں کے لیے ایمرجنسی میں توسیع کی جا چکی ہے۔ اگر اوباما دوبارہ توسیع کرتے ہیں تو یہ نویں توسیع ہو گی۔

جمعرات کو اطالوی اخبار"کورییری ڈیلا سیرا" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے مستقبل میں دور رس اثرات سامنے آئیں گے۔ انہوں نے اطالوی اخبار کو یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب وہ خود بھی آنے والے دنوں میں روم کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔

ایرانی صدر نےکہا کہ اگر جوہری معاہدے کو بہتر طریقے سے نافذ العمل کرنا ہے تو امریکا کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنا پڑے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی کی فضاء کو کم کرنا ہو گا۔ اگرامریکیوں نے معاہدے کا احترام نہ کیا تو ماضی کی طرح امریکی بائیکاٹ کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

سفارت خانے کا قیام

اطالوی اخبار نے جب ایرانی صدر سے امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی سے متعلق سوال پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ "ایک روز ہمیں سفارتی تعلقات بحال کرنا ہیں مگر سفارتی تعلقات کی بحالی کی کنجی امریکیوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے 37 سال سے کی جانے والی اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتےہیں۔ ایران سے معافی مانگتے ہیں تو تعلقات میں بہتری کے امکانات موجود ہیں"۔

سنہ 2013ء میں ایران میں منصب صدارت پر فائز ہونے والے حسن روحانی کا کہنا تھا کہ "میں نے خود بھی پابندیوں کا سامنا کیا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی ایزیکٹیو کمیٹی ہی سب کچھ نہیں۔ امریکا کو ایران کے عدالتی اور قانونی نظام کے ساتھ بھی تعاون کرنا ہو گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم بہتر مستقبل کے لیے پرامید ہیں۔